خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 393 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 393

خطبات محمود جلد ۴ ۳۹۳ سال ۱۹۱۵ء کے مستحق ہوتے ہیں ۔ لاہور کے احمدیوں کو ہر وقت مستعد اور تیار رہنا چاہئیے ۔ گالیوں کیلئے نہیں کیونکہ جو کسی کو گالیاں دیتا ہے وہ اپنی شکست اور کمزوری کا خود اقرار کرتا ہے۔ پس تم لوگ نرم بنومگر بے حیا نہ بنو۔ رسول کریم صلی السلام فرماتے ہیں الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ لا تم لوگوں سے نیک سلوک کرو۔ اگر کوئی محتاج ہو خواہ کسی مذہب کا ہو، چوہڑا چمار ہو، اس سے ہمدردی کرو مگر با حیاء بن کر ۔ بہت سے ایسے لوگ ہیں جو بے حیائی اور نرمی میں فرق نہیں سمجھتے۔ میں ایک طرف جہاں تمہیں چُستی اور نرمی کی نصیحت کرتا ہوں ، دوسری طرف بے حیائی اور بے غیرتی سے بھی منع کرتا ہوں۔ میں تمہیں کھول کر بتا دیتا کہ نرمی اور بے حیائی میں کیا فرق ہے مگر وقت نہیں ہے۔ مولوی غلام رسول صاحب را جیکی سمجھا دیں گے مگر نرمی سے سمجھائیں۔ تم لوگوں کو نصیحت کرو ۔ بعض لوگ ایسے ہیں جنہیں نہ ہم سے تعلق ہے اور نہ منکرین سے ۔ وہ درمیان میں پڑے ہیں۔ ان سے بات چیت کرو۔ پھر غیر مذاہب والے ہیں انہیں سمجھاؤ۔ اور سب سے زیادہ دعاؤں پر زور دو۔ سورہ فاتحہ میں دونوں باتوں کی تعلیم ہے ۔ اول یہ کہ اسمائے الہی کو یا د رکھو ۔ دوئم دعائیں کرو۔ مجھے حدیث کے ذریعہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ۱۲ کے بہت لطیف معنی سمجھ میں آئے ۔ اور وہ اس طرح کہ حضرت عائشہ بڑی سخی تھیں ان کی نسبت ابن زبیر ( یہ حضرت عائشہ کے بھانجے تھے ) نے کہا ان کا ہاتھ روکنا چاہئیے جب یہ بات ان تک پہنچی تو وہ سخت ناراض ہوئیں اور کہا کہ یہ میرے دین کے رستہ میں روک ہوتا ہے اور مجھے صدقہ سے روکتا ہے میں اس سے نہیں ملوں گی اگر ملوں تو مجھ پر صدقہ دینا واجب ہوگا ۔ اس بات پر جب کچھ عرصہ گزرا تو صحابہ نے صلح کروانے کی تجویز کی۔ عبدالرحمن ابن عوف ایک شخص تھے جو حضرت عائشہ کے ننھیال سے تھے۔ انہوں نے کچھ آدمی ساتھ لئے اور ابن زبیر کو بھی لے کر حضرت عائشہ گھر گئے ۔ دروازے پر جا کر آواز دی کہ ہم اندر آنا چاہتے ہیں۔ حضرت عائشہ نے کہا آجاؤ۔ ابن زبیر بھی ساتھ ہی پردہ اٹھا کر اندر چلے گئے اور آپ سے جا کر چمٹ گئے اور اپنا قصور معاف کروالیا۔ اس پر انہوں نے چالیس غلام آزاد کر دیئے ۱۳۔ اس سے یہ بات حل ہو گئی کہ اھدنا جمع کا صیغہ ہے یعنی ہمیں ہدایت دیجئیے ۔ جب یہ کہا جائے تو خدا تعالیٰ کی تو یہ شان نہیں کہ آدھے لوگوں کی تو دعا قبول کرے اور آدھے لوگوں کی نہ کرے وہ تو کہے گا کہ آجاؤ۔ تب سارے کے سارے خدا تعالیٰ کی رحمت میں داخل ہو جائیں گے اور اعمال صالحہ رکھنے والوں کے ساتھ کمزور بھی پار