خطبات محمود (جلد 4) — Page 380
خطبات محمود جلد ۴ ۳۸۰ سال ۱۹۱۵ء موت ہوگی۔اس آیت میں اس موت کے اختیار کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے کہ مومنو! تم اس حالت کو پہنچ جاؤ کہ جب تم پر موت آئے تو دنیا تم پر روئے اور تم ہنسو۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسی ہی موت نصیب کرے۔ہماری موتیں ہمارے لئے زندگیاں ہوں اور وہ فرائض جو خدا تعالیٰ نے ہم پر لگائے ہیں ان کے اسے ہم سبکدوش ہو کر جائیں۔آمین ال عمران: ۱۰۳ (الفضل یکم جولائی ۱۹۱۵ ء ) بخاری کتاب الایمان باب المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده وي بخاری کتاب المغازی باب آخر ما تكلم به النبی سی ای ایام میں یہ الفاظ درج ہیں۔اللَّهُمَّ الرفيق الأعلى ۴ شرح دیوان حسان بن ثابت صفحه ۲۲۱ کتب خانه آرام باغ کراچی ، السيرة الحلبية الجزء الثالث حاشیه صفحه ۳۹۷ مطبع محمد علی صبیح ميدان الازهر مصر ١٩٣٥ء ۵ مجانى الادب الجزء الثانی صفحه ۳۳ مطبعة الاباء اليسوعيین بیروت میں الفاظ یہ ہیں۔يَاذَا الَّذِي وَلَدَتْكَ أُمُّكَ بَاكِيَا احرض على عمل تكون به منى وَالنَّاسُ حَوْلَكَ يَضْحَكُونَ سُرُورٌ يَبْكُونَ حَوْلَكَ ضَاحِكًا مَسْرُورًا د بخارى كتاب الإيمان باب من الإيمان ان يحب لاخيه ما يحب لنفسه