خطبات محمود (جلد 4) — Page 381
خطبات محمود جلد ۴ ۳۸۱ (۷۴) تبلیغ مسلمانوں کا اہم فریضہ ہے (فرمودہ ۲۔جولائی ۱۹۱۵ء) سال ۱۹۱۵ء حضور نے تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔اللہ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں مسلمانوں کو ایک عجیب سبق دیا ہے۔مختلف مذاہب دنیا میں پائے جاتے ہیں لیکن انہوں نے خدا تعالیٰ کی تعلیم اور اس کلام کو تمام لوگوں تک پہنچانے کی طرف بہت کم توجہ کی ہے جس کی بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ مذاہب صرف ایک ایک قوم کیلئے ہیں۔چونکہ وہ مذاہب مختص القوم ہیں اس لئے ان کے کے پیروؤں کو اپنے اپنے مذاہب کی تبلیغ کیلئے اتنا زور دینے کی ضرورت نہ تھی۔اگر ان مذاہب کو دیکھا جائے تو ان کی تعلیم وقتی اور پوری کی پوری اپنی اپنی قوم کے ساتھ تعلق رکھنے والی معلوم ہوتی ہے۔چنانچہ یہود کو جو حکم دیئے گئے ان میں زیادہ تر بنی اسرائیل ہی کی بھلائی اور بہتری کو مدنظر رکھا گیا ہے مثلاً سود کی ممانعت کی گئی ہے اور ساتھ یہ شرط لگا دی گئی ہے کہ بنی اسرائیل کو سود لینا دینا حرام ہے۔اس تعلیم میں یہ شرط لگا کر کہ بنی اسرائیل آپس میں سود نہ لیں ظاہر کر دیا ہے کہ جو مذہب موسیٰ علیہ السلام کی معرفت آیا تھا وہ بنی اسرائیل سے ہی خصوصیت کے ساتھ تعلق رکھتا تھا۔پھر حکم ہے کہ بنی اسرائیل سے کوئی غلام نہیں بنایا جا سکتا۔ہاں دوسرے لوگوں سے غلام بنائے جا سکتے ہیں۔اس حکم نے بھی بتا دیا ہے کہ توریت کی تعلیم صرف بنی اسرائیل سے ہی تعلق رکھتی تھی جبھی تو اس کے فوائد کو مد نظر رکھتی ہے اور دوسری قوموں سے اسے امتیاز دیتی ہے۔اس کے بعد حضرت مسیح جو تعلیم لائے اس میں۔