خطبات محمود (جلد 4) — Page 374
خطبات محمود جلد ۴ ۳۷۴ سال ۱۹۱۵ء حضرت ابراہیم ، وغیرہ انبیاء علیہم السلام کو گالیاں دے دے۔اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ آنحضرت سائی یہ تم کو دو گالیاں دیتا ہے ایک اس بکواس کرنے والے کی معرفت اور ایک خود لیکن وہ یاد رکھے کہ یہ سخت بغاوت اور سرکشی ہے۔اللہ تعالیٰ کے انبیاء کی ہتک کوئی معمولی گناہ نہیں۔ایمان سلب ہو جاتا ہے اور قرآن کریم اس کا نام ہے کفر رکھتا ہے۔کسی کی مجال نہیں ہوتی کہ دنیا کے حکام کے سامنے ان کو گالی دے اور پھر نقصان نہ اٹھائے۔تو خدا تعالیٰ کے حکام جو ان سے بہت زیادہ اور زبردست ہوتے ہیں، ان کی نسبت ایسا کہنے والا کہاں بچ سکتا ہے؟ دنیا کے حکام کی ہتک کر کے بعض لوگ بیچ بھی جاتے ہیں مگر خدا کے انبیاء کی ہتک کر کے کوئی نہیں بچے سکتا۔کیوں؟ اس لئے کہ دنیاوی حاکموں کا مجرم پکڑنے والا ہاتھ اتنا لمبا نہیں ہوتا جتنا کہ خدائی حکام کے بھیجنے والوں کا ہے۔ان سے جنگلوں میں ، غاروں میں سمندروں میں، پہاڑوں کی اونچی چوٹیوں پر ، زمین دوز بحجروں میں چھپ کر بعض لوگ گرفتار ہونے سے بچ جاتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کا ہاتھ بڑے سے بڑے جنگلوں ، عمیق سے عمیق غاروں، وسیع سے وسیع سمندروں ، بلند سے بلند پہاڑوں اور تاریک سے تاریک حجروں میں پہنچ جاتا ہے۔پس دنیا وی بادشاہوں سے مقابلہ کرنا اتنا سخت نہیں جتنا خدا تعالیٰ سے ہے۔ایک بادشاہ مرجاتا ہے تو بعد میں اس کیلئے مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں رہتا۔مثلاً سکندر مر چکا ہے آج کتنی ہی گالیاں کوئی اسے نکالے کوئی پوچھتا تک نہیں۔مگر سکندر سے پہلے بھی جو کوئی نبی ہوا ہے، اس کو جو گالی دے اسے سزا دینے والا اس وقت بھی موجود ہے اور ضرور سزا دے گا۔نادان انسان گالی کے مقابلہ میں گالی دے کر سمجھتا ہے کہ میں نے بدلہ لے لیا ہے۔مگر وہ ایسا ہی کرتا ہے جیسا کہ کسی نے اس کی ایک گال پر طمانچہ مارا تو دوسری پر اس نے خود مار لیا۔ایک ہاتھ دشمن نے کاٹا تو دوسرا خود کاٹ لیا۔خدا تعالیٰ بُری اور بے حیائی اور حد سے بڑھنے والی باتوں سے روکتا ہے۔ہر ایک نبی خدا تعالیٰ کے حضور بہت بڑی عزت رکھتا ہے اس لئے اس کی ہتک کرنے والا ضرور سزا پاتا ہے۔اگر کسی نبی کے ماننے والا ہمارے پیشوا کی ہتک کرتا ہے تو ہمیں تو یہ بھی اجازت نہیں کہ اس کے ایسے پیشوا کی ہتک کریں جس کو صرف وہی مانتا ہے چہ جائیکہ ایسے پیشوا کی بے ادبی کریں جس کو ہم خود بھی مانتے ہیں۔پنڈت دیانند یک شخص ہوا ہے ہم اس کو نہیں مانتے لیکن یہ ہمارا کام نہیں ہے کہ ایک آریہ کے آنحضرت صلی ایام کو یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دینے پر ہم اس کو