خطبات محمود (جلد 4) — Page 371
خطبات محمود جلد ۴ (۷۲) خدا تعالیٰ کے مقررہ راستوں پر چل کر ہی انسان فلاح پاسکتا ہے (فرموده ۱۸ - جون ۱۹۱۵ء) سال ۱۹۱۵ء حضور نے تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد مندرجہ ذیل آیت کی تلاوت فرمائی:۔إنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَائِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ والمنكر والبغي يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُم تذكرون۔اس کے بعد فرمایا:۔ہر کام کیلئے اللہ تعالیٰ نے کچھ طریق اور دروازے مقرر فرمائے ہوئے ہیں۔جو انسان ان طریقوں اور دروازوں میں سے ہو کر کسی کام کو کرتے ہیں وہ کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن جو لوگ ان راستوں کو چھوڑ کر اور ان دروازوں کو اپنے اوپر بند کر کے ان کے علاوہ کسی اور طرح سے کامیابی چاہتے ہیں انہیں ہرگز کامیابی نصیب نہیں ہو سکتی۔خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے رستے اور کھولے ہوئے دروازے کو چھوڑ کر کسی اور طریق اور دروازہ کی طرف جاتے ہوئے یہ یقین رکھنا کہ میں کامیاب ہو جاؤں گا بالکل عبث ہے۔پس ہر ایک شخص کا فرض ہے کہ اگر وہ کامیابی دیکھنا چاہتا ہے اگر وہ با مراد ہونا چاہتا ہے اگر وہ فلاح پانا چاہتا ہے اور اگر وہ مظفر و منصور ہونا چاہتا ہے تو ہر ایک کام کے کرتے وقت اس بات پر غور کر لے کہ اس کے متعلق خدا تعالیٰ نے کون سے راستے مقررفرمائے اور کون سے دروازے کھولے۔اگر وہ یہ دیکھے کہ میں ان رستوں پر قدم زن نہیں اور ان دروازوں سے نہیں گزررہا جو خدا تعالیٰ نے مقرر کئے ہیں تو سمجھ لے کہ میرے لئے کامیابی