خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 302

خطبات محمود جلد ۴ سال ۱۹۱۵ء بازی گروں کو دیکھا ہے جو رسہ پر پاؤں رکھ کر چلتے ہیں اور اپنے پاؤں سے سینگ باندھ کر اور سینگ کی نوک رسہ پر ٹیک کر چلتے ہیں تو اسے معلوم ہوگا کہ وہ کیسی عمدگی سے اپنے پیروں کو رکھتے اور کس خوبی سے اپنے وزن کو برابر رکھتے ہیں نہ ادھر گرتے ہیں نہ اُدھر گرتے ہیں۔یہی حال متقی کا ہے اس کو بھی اسی طرح احتیاط سے کام لینا پڑتا ہے کیونکہ دنیا میں ہی تقویٰ کی راہ اس کیلئے بہشت کا موجب ہوتی ہے اگر کوئی اس راستہ سے ذرا ادھر ہو جائے تو وہ جہنم کے گڑھے میں گر پڑتا ہے۔تو جس طرح بازیگر چند پیسوں کیلئے رسہ پر اعتدال اور کوشش سے چلنے کی مشق کرتا ہے اور پھر اس پر چلتا ہے اسی طرح مومن کا کام ہے کہ وہ اپنے نفس کو بچاتا ہوا اعتدال سے زندگی بسر کرے اور تقویٰ کے راستہ سے ذرا ادھر ادھر نہ سر کے تا کہ جہنم کے عمیق گڑھے میں گرنے سے بچ جائے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنْ تَتَّقُوا اللهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرقانًا۔اگر تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو گے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تمہارے لئے فرقان پیدا کر دے گا۔فرقان کیا ہے۔اس کے کئی معنے ہیں۔اول وہ چیز جو حق و باطل میں تمیز اور فرق کر دے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارے لئے تقویٰ کرنے سے ایسی تدبیریں کی جائیں گی کہ جس بات پر تم قائم ہو اور جس صداقت کو تم پیدا کرنا چاہتے ہو اللہ بڑی زور آور تائیدوں سے اس کولوگوں پر ظاہر کر دے گا اور اس طرح حق و باطل میں کھلا کھلا فرق ہو جائے گا۔دوم فرقان کے معنے ایسے راستہ کے ہیں جس پر چل کر انسان مصیبتوں تکلیفوں اور رنجوں سے نکل جائے یعنی اگر تم اللہ کیلئے تقویٰ اختیار کرو گے تو وہ تمہارے لئے ایسا راستہ پیدا کر دے گا کہ تم ہر قسم کی مصیبتوں سے بچ کر نکلا جاؤ گے۔واقعہ میں ہر ایک کمزور کیلئے دنیا میں آرام سے رہنے کیلئے یہی ایک راستہ ہوتا ہے کہ وہ طاقتور کا سہارا لے۔دیکھو ایک کمزور جو چار پائی سے قدم بھی اٹھا نہیں سکتا میلوں کا سفر اس طرح طے کر لیتا ہے کہ اس کے تندرست ساتھی اس کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔پس کمزور اور نا طاقت انسان کیلئے مصیبتوں اور تکلیفوں سے بچنے کا یہی طریق ہے کہ وہ طاقتور کا سہارا لے۔اسی لئے اللہ تعالی فرماتا ہے کہ ايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا اے مومنو! اگر تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو گے تو وہ آپ تمہارے لئے مصیبتوں سے بچنے کا راستہ نکالے گا اور تمہیں خود اٹھا کر ہلاکت کے گڑھے سے پار کر دے گا اور وَيُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیّاتِكُمْر تمہاری کمزوریوں کو ڈھانپ دے گا۔انسان میں بہت سی کمزوریاں ہوتی ہیں اور اس کے پچھلے گناہ اس کے راستہ میں حائل