خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 295 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 295

خطبات محمود جلد ۴ ۲۹۵ سال ۱۹۱۵ء رحمانی کاموں میں آیا کرتی ہیں مگر رحمانی لوگ ہی کامیاب ہوا کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے برگزیدہ لوگ اہل دنیا کو دنیا کے مقابلہ میں لے کر اس طرح جاتے ہیں جس طرح ایک سٹیم انجن دریا کے بہاؤ کے خلاف اپنے سواروں کو لے کر جاتا ہے لیکن شیطان لوگوں کو اس طرح ساتھ لیتا ہے کہ جدھر دریا کا بہاؤ ہو ادھر ہی وہ بھی کشتی پکڑ کر چلنا شروع کر دیتا ہے اور جس طرف دنیا کا رُخ ہوتا ہے ادھر ہی شیطان بھی لے چلتا ہے۔مجھ سے ایک شخص نے پوچھا کہ سرسید، مسٹر گو کھلے اور مرزا صاحب کے کاموں میں فرق کیا ہے۔میں نے اسے کہا کہ فرق یہ ہے کہ یہ لوگ جدھر دریا کی رو جارہی تھی ، ادھر ہی ساتھ چل پڑے لیکن حضرت مرزا صاحب جدھر سے دریا کی رو آ رہی تھی اس طرف چلے۔چنانچہ دیکھو کہ سرسید انگریزی تعلیم کیلئے جدو جہد کرنے کیلئے اس وقت اٹھا جبکہ لوگوں کے دل محسوس کر رہے تھے اور وہ اس بات پر آمادہ تھے کہ تعلیم ہونی چاہئیے کیونکہ انہیں معلوم ہو چکا تھا کہ گورنمنٹ کے ہاں عہدے اور ترقیاں اسی پر منحصر ہیں۔بے شک کچھ لوگوں نے سرسید کی مخالفت کی مگر وہ بھی اس بات پر مجبور تھے کہ اس کی بات کو مان لیں۔پس وہ اس رو کی طرف جو ایک دریا کی طرح چل رہی تھی اور جس میں چلنے کیلئے لوگ مجبور تھے چل پڑا اس لئے لوگوں نے اس کی آواز پر لبیک کہا۔ہاں وہ اس بات کیلئے تعریف کا مستحق ہے کہ اس نے لوگوں کے دلوں کو ٹول لیا اور ان کی چھپی ہوئی آرزو کو معلوم کر لیا اس لحاظ سے وہ قابل عزت ہے۔اسی طرح مسٹر گو کھلے اور بیندر ناتھ بھی قابل قدر ہیں کیونکہ انہوں نے دیکھا کہ دنیا حقوق مانگ رہی ہے انہوں نے اٹھ کر کہہ دیا کہ آؤ ہمارے ساتھ مل کر مانگو، ہم تم کو راہ بتاتے ہیں۔گو بعضوں نے ان کا مقابلہ بھی کیا مگر آخر مقابلہ کرنے والوں کو بھی ادھر ہی چلنا پڑا جس طرف باقی دنیا جا رہی تھی۔لیکن ان کے مقابلہ میں دیکھو کہ حضرت مسیح موعوداً ایسے وقت میں کھڑے ہوتے ہیں جبکہ یورپ کا فلسفہ لوگوں کو سکھا رہا تھا کہ وحی کوئی چیز نہیں ہوتی۔مسلمانوں میں یہ پختہ عقیدہ ہو چکا تھا کہ یہ انعام کا دروازہ بند ہو چکا ہے اور اب کسی کو وحی نہیں ہوسکتی۔دنیا اپنی تمام خوبصورتی اور حسن کے ساتھ پورا پورا بناؤ سنگار کر کے آگئی تھی اور وہ دنیا جو ابتداء سے انسان کو اپنا والہ وشیدا بناتی چلی آئی تھی اس پر لوگ فریفتہ ہو رہے تھے۔اس وقت متادیان سے ایک آواز آتی ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم کرو۔اس سے بآسانی سمجھ آسکتی ہے کہ حضرت مرزا صاحب اور سر سید اور مسٹر گو کھلے وغیرہ کے کاموں