خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 294 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 294

خطبات محمود جلد ۴ ۲۹۴ سال ۱۹۱۵ء کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے راستی کی نہیں بلکہ ناراستی کی اور صداقت کی نہیں بلکہ کذب کی تائید کی ہے اور گویا اس نے اپنی قدیم سنت کو چھوڑ دیا ہے۔لیکن ایسا کہنے والے یا درکھیں اور خوب یاد رکھیں کہ گو انہیں اپنے چند دوستوں کی واہ واہ اور غیر احمد یوں سے مالی فائدہ حاصل ہو جائے لیکن ان کا یہ حملہ قرآن شریف پر ہے کیونکہ اگر وہ ثابت کریں کہ حضرت مسیح موعود کی جماعت کا کثیر حصہ گمراہ اور تباہ ہو گیا ہے تو انہیں قرآن شریف کی بہ آیت منسوخ قرار دینی پڑے گی لیکن یہ ہو نہیں سکتا۔ہم کہتے ہیں کہ اسی بات پر ہی مقابلہ کر کے کیوں نہیں دیکھ لیا جاتا کہ خدا کس کو گھٹا رہا ہے اور کس کو بڑھا رہا ہے۔یہاں میرے ہاتھ پر اڑھائی ہزار کے قریب لوگوں نے بیعت کی تھی اور اُس وقت کی تھی جبکہ میرے مقابلہ میں وہ لوگ تھے جو قوم میں چیدہ اور باوقعت تھے اور انہوں نے فرعون کے ساحروں کی طرح مل کر مجھے مٹانا چاہا تھا لیکن کیا اب وہ دیکھتے نہیں کہ خدا تعالیٰ اسی سلسلہ کو بڑھا رہا ہے جس کے مثانے میں انہوں نے ایڑی چوٹی تک کا زور صرف کر دیا اور انہی لوگوں کو خدا تعالیٰ نے بڑھایا جو میرے ساتھ تھے اور ان کو گھٹایا جو میرے مقابلہ پر تھے۔کیا یہ اس بات کا بین ثبوت نہیں ہے کہ ہمارا فعل ہی خدا تعالیٰ کا منظور نظر ہے۔پس اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سچے تھے اور اگر خدا تعالیٰ کا کلام سچا ہے اور ضر ور سچا ہے تو یہ ضرور ہی ماننا پڑے گا کہ وہ سلسلہ جس کو خدا بڑھا رہا ہے وہ سچا ہے اور جس کو گھٹا رہا ہے وہ جھوٹا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ قوم میں سے ایک زمانہ میں صداقت اُٹھ جاتی ہے مگر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کے زمانہ میں اور اس کی اپنے ہاتھوں کی بنائی ہوئی جماعت کو ضرور صداقت پر قائم رکھتا ہے اور اسے بڑھا تا اور ان کے مخالفوں کو گھٹاتا ہے۔اب دیکھئے کہ خدا نے کس کو مضبوط کیا اور بڑھایا ہے اور کس کو کمزور کیا اور گھٹایا ہے۔ہمیں خدا تعالیٰ ہزاروں سے لاکھوں بنادیا ہے اور ہمارے مخالفوں کو ہزاروں سے سینکڑوں پر لے آیا ہے اور اس سے بھی نیچے گرا رہا ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے کہ خدا تعالیٰ کے راستہ پر چلنے والی جماعت کم نہیں ہوتی لیکن یہ بھی سنت اللہ ہے کہ ان کے راستہ میں روکیں ڈالنے والے بھی ضرور ہوتے ہیں سو یہ بھی تمہارے راستہ میں روک ہے کہ چند لوگ تم میں سے نکل کر حضرت مسیح موعود کی شان کو کم کرنے لگ گئے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روکیں آیا ہی کرتی ہیں مومنوں کو ان سے گھبرانا نہیں چاہیئے۔ایسا ضرور ہوا کرتا ہے شیطانی روکیں