خطبات محمود (جلد 4) — Page 293
خطبات محمود جلد ۴ ۲۹۳ سال ۱۹۱۵ء ہے ( انبیاء بھی آیۃ اللہ میں داخل ہیں ) خدا ان کے قدموں کو مضبوط کرتا ہے انکی صداقت کو ظاہر کرتا ہے اور شیطانی کارروائیوں کو مٹا دیتا ہے کوئی نبی اور رسول ایسا نہیں ہوا جس کے ساتھ یہ معاملہ نہ ہوا ہو۔حضرت آدم علیہ السلام کو اگر انبیاء میں شامل کر لیا جائے تو ان سے لے کر اور آنحضرت صلی ی ی یتم تک ایک بھی نبی ایسا نہیں آیا کہ اس نے کوئی ارادہ کیا ہو اور اس کی مخالفت نہ کی گئی ہو بلکہ جب کبھی بھی کسی نبی اور رسول نے چاہا ہے کہ وہ راستی ، ہدایت اور پاک تعلیم کو لوگوں میں پھیلائے جب ہی شیطان کھڑا ہو گیا ہے اور اس نے اس ارادہ سے روکنا چاہا ہے لیکن یہ بھی قدیم سے ہی سنت اللہ ہے کہ جو شیطان بشکل انسان انبیاء کو روکنے کے لئے کھڑے ہوئے وہ ہلاک اور بر باد ہی ہو گئے اور اگر کوئی جماعت کامیاب ہوئی تو وہی جو نبی کو ماننے والی تھی۔پھر کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی نبی جب اپنے زمانہ میں کسی صداقت کو لے کر کھڑا ہوا ہو اور شیطان لوگوں نے اس صداقت کو مٹا دیا ہو۔ہاں نبی کے ایک عرصہ بعد تو ایسا ہوتا ہے مگر اس نبی کے زمانہ میں یا اس کی وفات کے ساتھ ہی اس کی جماعت میں ایسا تغیر نہیں ہوا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نبی کے زمانہ میں شیطانی کوششوں اور کاموں کو مٹاتے اور نبی کے کاموں کو مضبوط کرتے ہیں۔مگر کیسے غضب کی بات ہے کہ آج ہمارے سامنے پیش کیا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود خدا تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہو کر آئے اور چالیس سال تک لوگوں کو ہدایت دینے میں لگے رہے پھر ایک ایسی جماعت جس کی تعداد آپ ہی نے چار لاکھ بیان فرمائی، آپ کے ساتھ ہوئی یہ سب کچھ مانتے ہوئے پھر کہتے ہیں کہ شیطان نے حضرت مسیح موعود کے کام میں روک ڈال دی یعنی بجائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ اپنی اس آیت یعنی مسیح موعود علیہ السلام کو مضبوط کرتا اُلٹا منسوخ کر دیا ہے اور اتنی بڑی جماعت میں سے صرف چند لوگوں کو مومن رہنے دیا ہے اور باقی سب کو گمراہ کر دیا ہے۔اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ ہم شیطان کی کارروائی کو منسوخ کرتے ہیں اور انہی لوگوں کے کام مضبوط کئے جاتے ہیں جو ہماری طرف سے آتے ہیں۔پس خدا کے اس کلام میں کوئی شک نہیں کوئی شبہ اور کوئی ریب نہیں ہوسکتا اور اگر یہ خدا تعالیٰ کی بات قطعی نہیں، سچی نہیں ، اور صادق نہیں تو قرآن شریف پر شک پڑتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ ہمارے مرسلوں کے خلاف جو کوششیں کرنے والے ہوتے ہیں ان کو ہم تباہ کرتے ہیں اور اپنے رسولوں اور نبیوں کو کامیاب کرتے ہیں مگر آج اس کے بر خلاف