خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 278 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 278

خطبات محمود جلد ۴ ۲۷۸ (۵۹) کلمہ شہادت اسلام کا ایک بے نظیر خلاصہ ہے (فرموده ۲۶۔فروری ۱۹۱۵ء) سال ۱۹۱۵ء تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد کلمہ شہادت پڑھا۔اَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ۔پھر فرمایا:۔کلمہ شہادت اسلام کا ایک ایسا بے نظیر خلاصہ ہے کہ اسلام کی اصولاً کوئی بات اس سے خارج نہیں۔اگر ہم غور کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ در حقیقت دنیا میں دو ہی کام انسان کے نصب العین ہو سکتے ہیں۔اول سب سے بڑا اور پہلا کام یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرے اور دوسرا بڑا بھاری کام یہ کہ بنی نوع انسان سے شفقت، ہمدردی اور مروت سے پیش آئے۔تو اگر لا إلهَ إِلَّا الله اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ایک ہی حقیقی معبود ہے جس کی عبادت کرنی چاہئیے۔اور ماسوا اللہ سے اپنی توجہ ہٹا کر الہی کی طرف جھک جانا چاہئے تو محمد رَّسُولُ اللہ کا کلمہ اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ جب اللہ اپنی مخلوق سے ایسا پیار اور محبت رکھتا ہے کہ ان کی گمراہی کے وقت ان کی دستگیری کرنے کے لئے اپنے رسول مبعوث کرتا ہے اور بغیر اس کے کہ کسی کا محتاج ہو یا کچھ حاجت رکھتا ہو، جب اپنے بندوں سے یہ سلوک کرتا ہے تو معلوم ہو سکتا ہے کہ ایک انسان کو دوسرے انسان سے کیا سلوک کرنا چاہیئے۔پس اگر کلمہ شہادت کا پہلا حصہ انسان کے تعلقات کو خدا تعالیٰ سے مضبوط کرتا ہے تو