خطبات محمود (جلد 4) — Page 265
خطبات محمود جلد ۴ ۲۶۵ (۵۶) محض اپنے خیالات اور آرزو کے مطابق مذہب پر عمل کرنا اطاعت نہیں فرموده ۱۵۔جنوری ۱۹۱۵ء) سال ۱۹۱۵ء حضور نے تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت کی :۔وَإِذْ اَخَذْنَا مِيْنَاقَكُمْ لَا تَسْفِكُونَ دِمَاءَ كُمْ وَلَا تُخْرِجُونَ أَنْفُسَكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ ثُمَّ أَقْرَرْتُمْ وَأَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ ثُمَّ أَنْتُمْ هَؤُلَاءِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَتُخْرِجُونَ فَرِيقًا مِنْكُمْ مِنْ دِيَارِهِمْ تَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَإِن يَأْتُوكُمْ أسرى تُفَدُوهُمْ وَهُوَ مُحَرَّمُ عَلَيْكُمْ إِخْرَاجُهُمْ أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الكتب وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ فَمَا جَزَاءُ مَنْ يَفْعَلُ ذلِكَ مِنْكُمْ إِلَّا خِزْيٌ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ الْقِيمَةِ يُرَدُّونَ إِلى اَشَلِ الْعَذَابِ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ! اس کے بعد فرمایا:۔ایک بہت بڑی مرض جو انسان کی روح کو کھانے والی ہے وہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ اپنے منشاء، اپنے ارادے اور اپنے خیالات اور اپنی آرزو کے مطابق مذہب کی جو بات دیکھتے ہیں صرف اسی پر عمل کرنا کافی سمجھتے ہیں اور اس سے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اطاعت ہو چکی ہے۔چونکہ انسانوں کی فطرتیں ان کے اخلاق اور عادات مختلف حالات اور صحبتوں کی وجہ سے بدلتے رہتے ہیں اس لئے ہر ایک انسان اپنا ایک خاص ذوق رکھتا ہے۔اپنے ذوق کو انسان آسانی سے پورا کر لیتا ہے۔اگر ہندوستان کے ہی مختلف علاقوں میں لوگوں کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بعض جگہ