خطبات محمود (جلد 4) — Page 261
خطبات محمود جلد - ۴ ۲۶۱ سال ۱۹۱۵ء خدا نے پہلے بتلا دیا تھا کہ دشمن کا بھی ایک وار نکلا۔ دشمنوں کو اب بھی موقع مل گیا اور انہوں نے خیال کیا کہ اب یہ جماعت بکھر جائے گی۔ ہندوستان میں دو قسم کے لوگ تھے، ایک وہ جو علماء و عوام کے طرف دار تھے اور دوسرے وہ جو انگریزی خوانوں کے حامی تھے۔ حضرت مسیح موعود کی وفات پر لوگوں نے کہا کہ مولوی نور الدین ( حضرت خلیفة المسیح الاول ) کے سبب سے یہ سلسلہ قائم تھا۔ لیکن جب وہ بھی رحلت فرما گئے تو لوگوں نے کہا کہ اس جماعت میں بعض انگریزی خواں ہیں انہی کے سہارے یہ سب کام ہوں گے۔ چونکہ خدا نے چاہا کہ اس زمانہ میں شرک مٹے اور توحید قائم ہو اور اسلام روشن ہو ۔ دشمن نے چاہا کہ اپنے خیالات اور اپنے منہ کی پھونکوں کے ساتھ اس روشنی کو بجھا دے لیکن خدا نے جس کی طرف سے یہ سلسلہ تھا اسے محفوظ رکھا اور دشمن ناکام ہوا۔ ان انگریزی خوانوں کو جن کے سہارے اس سلسلہ کا قائم رہنا سمجھا جاتا تھا خدا تعالیٰ نے نکال کر پھر دکھا دیا کہ ہم اس کے قائم رکھنے والے ہیں اور کوئی نہیں ہے۔ باوجود اس کے کہ جماعت پر خطر ناک زلزلے آئے لیکن اس خدا کی بنائی ہوئی عمارت پر کوئی غالب نہ آسکا اور یہ عمارت زلازل سے محفوظ رہی۔ یوں بھی تو تفرقہ دور ہو چکا تھا لیکن خدا تعالیٰ نے جلسہ سالانہ پر دکھلا دیا کہ عت ٹوٹی نہیں بلکہ اور خدا تعالیٰ نے اسے مضبوط کر دیا۔ مجھے یہ یقین ہے اور غالبا یہ شائع بھی ہو چکا ہے خدا تعالیٰ نے مجھے الہام کیا یا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَمًا ۔ وہ آگ بجھ گئی اور خدا تعالیٰ اسے بجھاتا رہے گا اور کوئی تم میں تفرقہ نہیں ڈال سکے گا۔ کیونکہ دلوں کی حکومت خدا کے ہاتھ میں ہے۔ میں نے سورۃ فاتحہ اس لئے پڑھی ہے کہ اس کی ابتداء ہی الحَمدُ للہ سے کی گئی ہے اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے لَئِن شَكَرْتُمْ لا زِيدَنَّكُمْ ۲ اگر شکر کرو گے تو میں تمہیں بیش از پیش نعمتیں دوں گا اور تم پر ایک سے ایک بڑھ کر انعام کروں گا۔ جماعت تم سب مل کر اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرو تو یہ جو کچھ تھوڑا سا تفرقہ رہ گیا ہے یہ بھی جلدی دور ہو سکتا ہے۔ وہ دن آتے ہیں اور وہ بعید نہیں ہیں صرف ایک دو سال اور ہیں کہ یہ سب مشکلات دور ہو جائیں گی ۔ صرف دو سال مشکلات کے اور ہیں اور جیسا کہ مجھے معلوم ہوا ہے تیسرا سال ایسا آنے والا ہے کہ جماعت کے لوگ بڑی بڑی کامیابیاں دیکھیں گے۔ پس آو! سب مل کر دعا کریں الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ - الہی ! آپ بڑی خوبیوں والے ہیں ۔