خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 260

خطبات محمود جلد ۴ سال ۱۹۱۵ء پھر جب وہ خدا سے تعلق پیدا کر لے اور خدا کی طرف سے اسے کھڑا کیا جاوے تو ہزاروں ہزار دل اللہ تعالیٰ اس کے ماتحت کر دیتا ہے۔دنیا میں سلطنت کے لحاظ سے بڑے بڑے بادشاہ اور دولت مند امیر اور عالم ، طاقت اور قوت کے لحاظ سے بڑے بڑے قومی اور عقل و دانش کے لحاظ سے بڑے بڑے عقلمند لوگ موجود ہیں لیکن باوجود ان تمام کے اگر دلوں پر کسی کو حکومت ملی تو تمام دنیا میں سے ہندوستان کے ایک گوشہ میں ایک گمنام بستی میں رہنے والے مرزا غلام احمد کو ملی۔یہ کونسی طاقت تھی جس نے تمام دنیا میں سے ایک ایسے دل کو تلاش کیا جو گمنامی کے گوشہ میں تھا۔وہ کوئی دولت مند نہ تھا، وہ مشہور عالموں میں سے نہ تھا ، وہ دنیاوی بادشاہ نہ تھا، اس کا نام مشہور نہ تھا اور وہ دنیاوی دولت کے لحاظ سے بڑا نہ تھا لیکن آسمان سے آواز آئی کہ میں اب اس کو حکومت دیتا ہوں جیسے گڈریے کی آواز پر بھیڑیں اس کے گرد جمع ہو جاتی ہیں اسی طرح خدا کی طرف سے ایک آواز آئی اور نیک دل رکھنے والے لوگ اس کے گرد جمع ہو کچھ لوگوں نے اس کی مخالفت بھی کی مگر اس کا کچھ بگاڑ نہ سکے بلکہ اپنا ہی نقصان کیا۔اور کہنے والوں نے یہ بھی کہا بس یہ سلسلہ اس کی (حضرت اقدس مسیح موعود ) کی زندگی تک ہے پھر یہ کھیل ختم ہو جائے گا اور یہ سلسلہ نابود ہو جائے گا لیکن خدا نے جس کی طرف سے وہ آیا تھا دشمنوں کو شرمندہ کیا اور بتلا دیا کہ دلوں کی حکومت انسانوں کے ہاتھ میں نہیں بلکہ ہمارے ہاتھ میں ہے اور ہم تو زندہ ہیں۔دشمن سلسلہ کی تباہی کے منتظر تھے لیکن خدا نے ان کی آنکھوں میں خاک جھونک دی اور بتلا دیا کہ یہ سلسلہ خدا کی طرف سے ہے۔دشمنوں نے پھر کہا کہ ہم نہیں کہتے تھے کہ مرزا نے اپنے پاس مولوی چھپا کر رکھے ہوئے ہیں اور وہی سب کچھ کر رہے ہیں۔بس اب یہ سلسلہ مولوی نور الدین کی زندگی تک ہی ہے ان کی آنکھ بند کرنے کی دیر ہے بس پھر تباہ ہو جائے گا۔یہ بات صرف لوگوں کے دلوں میں نہ تھی بلکہ اسے اخباروں اور رسالوں میں بھی چھاپا گیا اور میں نے خود پڑھا کہ یہ سلسلہ بس مولوی صاحب کی زندگی تک ہے۔دنیا میں کون سا انسان ایسا ہو سکتا ہے جو ہمیشہ کے لئے زندہ رہے۔نبی کریم صلی ا یہ تم جیسا عظیم الشان انسان قوت ہو گیا۔اب تک مسیح ناصری کو لوگوں نے زندہ رکھا ہوا تھا اسے بھی مسیح محمدی نے آکر فوت شدہ ثابت کر دیا۔آخر حضرت خلیفتہ المسیح بھی وفات پا گئے اور جیسا کہ