خطبات محمود (جلد 4) — Page 238
خطبات محمود جلد ۴ ۲۳۸ سال ۱۹۱۴ء تا کہ ایسانہ ہوکہ تم میں پھوٹ پڑنا شروع ہو جائے اور تم کہیں کے کہیں جا پڑو۔خدا تعالیٰ کے نزدیک بغاوت اور سرکشی بہت ہی نا پسندیدہ چیز ہے۔اتحاد کو توڑ دینا، امن عامہ میں خلل ڈالنا بہت ہی بری بات ہے۔یہ ہوتا تو آسان ہے لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس کا پھر حاصل کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔پھر اگر ساری دنیا کا مال و دولت بھی خرچ کر دیا جائے تو بھی کچھ نہیں بنتا۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہی ہوتا ہے کہ امن قائم ہوتا ہے۔ہمارے ہاں ہی دیکھ لوکیسا امن ہوتا تھا کیسا اتفاق تھا لیکن کسی کو ایک اعلان کی ایسی ضرورت پڑی کہ سارا امن اور سارا اتحاد اس نے قربان کر دیا۔اب اگر کوئی صلح کی آرزو کرے تو اسے کہاں میسر ہو سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہ انعام دیا تھا اس وقت کیوں قدر نہ کی اور ایسی کون سی اعلان کی ضرورت پڑی تھی۔اب دیکھ لوخواہ کتنا ہی زور ماریں لیکن وہ گند جو بعض کے سینوں سے نکلا ہے وہ بھی صلح نہیں ہونے دیتا۔اسی طرح خدا تعالیٰ نے دنیاوی رنگ میں ہمارے لئے گورنمنٹ قائم کی ہے۔ہمیں کیسا آرام ہے ملک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک ہم بلا کسی قسم کے خوف کے جا سکتے ہیں، کیسے آرام اور امن سے عبادتیں کرتے ہیں اور اگر کوئی ہمارے کاموں میں مخل ہوتا ہے تو گورنمنٹ کے سپاہی اس کے روکنے کیلئے تیار رہتے ہیں۔آج کل بعض شریر الطبع اور خبیث فطرت لوگ چاہتے ہیں کہ اس امن میں خلل ڈالیں خدا نخواستہ اگر وہ اپنے کاموں میں کامیاب ہو گئے تو پھر دکھ ہی دکھ ہوگا۔تمہارا اس وقت جو کچھ فرض ہے وہ میں بار بار بتا چکا ہوں کہ تم امن پسند زندگی بسر کرو اور ان لوگوں سے جو شریر ہیں علیحدہ رہو اور ان کی اصلاح اور درستی کی فکر کرو۔تم شاید یہ کہو ہم ایسے نہیں ہیں۔یہ ٹھیک ہے کہ تم ایسے نہیں ہو لیکن اگر تمہارے ہمسائے ایسے ہیں تو تم کو بھی اس سے نقصان پہنچے گا۔اگر کسی کے ہمسایہ کے گھر کو آگ لگے تو وہ ضرور اس کے گھر تک پہنچتی ہے۔اور اگر کوئی شریر گورنمنٹ کے خلاف ڈاکے مارے تو گو تمہیں اس سے کوئی غرض اور تعلق نہیں ہے لیکن وہی ڈاکو ایک دن تم پر حملہ کرے گا خواہ تم کتنے ہی امن پسند ہو۔لیکن اگر بعض شریروں کی شرارت سے ملک کا امن اٹھ جائے تو۔تمہیں بھی بہت نقصان پہنچے گا اس لئے ملک میں امن قائم رکھنا تمہارا کام ہے۔حضرت مسیح موعود علہ السلام کی ہمیشہ یہی تعلیم رہی ہے اور اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔آپ کے یہ فقرے میرے کانوں میں گونج رہے ہیں کہ میں نے ایسی کوئی کتاب نہیں لکھی جس میں گورنمنٹ کی وفاداری کی تعلیم نہ دی ہو۔میں