خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 239 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 239

خطبات محمود جلد ۴ ۲۳۹ سال ۱۹۱۴ء نے اتی (۸۰) کے قریب کتابیں لکھی ہیں اور تمام میں کسی نہ کسی رنگ میں گورنمنٹ کی تابعداری بتائی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر لوگوں نے الزام لگایا ہے کہ یہ ( نَعُوذُ باللہ) منافقت سے گورنمنٹ کی خوشامد کرتا ہے لیکن ان احمقوں نے اتنا بھی نہ سمجھا کہ آپ کو گورنمنٹ کی خوشامد کی کیا ضرورت تھی۔وہ انسان جس کو خدا تعالیٰ یہ کہے کہ تو میرا رسول اور نبی ہے اس کے نزدیک دنیا کی بادشاہت کیا حیثیت رکھتی ہے۔دنیا کی حکومتیں آسمانی حکومت کے مقابلہ میں کچھ وقعت نہیں رکھتیں۔میں تو کہتا ہوں کہ تم میں ہر ایک احمدی اگر ان احسانات کو سوچے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے واسطہ سے خدا تعالیٰ نے اس پر کئے ہیں تو اس کے نزدیک بھی کوئی چیز اس سے بڑھ کر قابل وقعت نہیں رہتی۔تو کسی کا یہ خیال کرنا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خوشامد سے گورنمنٹ کی وفاداری کی تعلیم دی ہے پرلے درجے کی نادانی اور نالائکھتی ہے۔آپ نے سچے دل سے اور واقعات کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ تعلیم دی ہے۔اب اگر کوئی یہ کہے کہ وہ وقتی تعلیم تھی تو وہ منافق ہے وہ احمدی ہی نہیں ہے۔بھلا یہ کیونکر ممکن ہے کہ ان آنکھوں کے ہوتے ہوئے جنہوں نے مسیح موعود کو دیکھا اور ان کانوں کے ہوتے ہوئے جنہوں نے آپ کی باتوں کو سنا کوئی کہے کہ گورنمنٹ کی وفاداری نہیں کرنی چاہئیے تو اس کو احمدی سمجھا جائے۔گورنمنٹ کی خوشامد کرنے کی ہمیں کوئی غرض نہیں ہے کیونکہ چاہے ہم کہیں کہ گورنمنٹ کے وفادار ہیں اور چاہے نہ کہیں مذہبی آزادی تو ملی ہوئی ہے۔اور باقی بھی ہر طرح کے آرام میسر ہیں ، پھر گورنمنٹ کا کوئی بڑے سے بڑا احسان ایسا نہیں ہے جو مسیح موعود کی خدمت کرنے کی وجہ سے ہم پر ہوا ہے۔کوئی بڑے سے بڑا عہدہ، کوئی بڑے سے بڑا خطاب ایسا نہیں ہے جو ہمارے لئے مسیح موعود کے خادم ہونے سے بڑھ کر عزت کا باعث ہو سکے۔پھر کون سی ایسی چیز ہے جو ہمیں خوشامد پر مائل کر سکتی ہے۔نہیں کوئی بھی نہیں۔یہ خدا تعالیٰ کا ، آنحضرت سلیم کا اور حضرت مسیح موعود کا حکم ہے کہ ہم گورنمنٹ کی وفاداری کریں اور امن قائم رکھنے کے لئے گورنمنٹ کا ہاتھ بٹائیں۔اگر گورنمنٹ ہماری ان باتوں کو خوشامدانہ رنگ میں سمجھے تو یہ اس کی غلطی ہے اور اگر کوئی اور ایسا سمجھتا ہے تو اس کی بھی غلطی ہے۔ہمارا یہ ایمان ہے اور اسلام ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ تم ایسا کرو، اس لئے ہم ایسا کرتے ہیں۔اور ایک مسلمان اس وقت تک مسلمان ہی نہیں رہ سکتا جب تک وہ بغاوت کے کاموں سے حتی کہ بغاوت کی باتوں سے دور نہ رہے۔خدا تعالیٰ