خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 231

خطبات محمود جلد ۴ ۲۳۱ سال ۱۹۱۴ء خدا تعالیٰ سے کیا تعلق تھا اور خدا تعالیٰ کا مرزا سے کیا تعلق تھا۔مگر سیلون، افریقہ ،عرب ، ماریشس، برما، مالا بار وغیرہ علاقوں میں کس طرح خدا تعالیٰ نے آپ کی صداقت کا بیج پھیلا دیا اور کس طرح اپنے فضل سے اب پھیلا رہا ہے۔واقعہ میں دنیا میں اللہ تعالیٰ کے فضل بے انتہا ہیں لیکن لوگ قدر نہیں کرتے۔میں نہیں سمجھتا کہ لوگ کونسا ایسا کام کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اپنے فضل اور رحم سے ان میں ایک نبی مبعوث فرماتا ہے اور پھر ایسے لوگوں میں جو کہتے ہیں کہ ہم اس نبی کو قبول نہیں کرتے مگر اللہ تعالیٰ ان پر اپنا فضل نازل کرتا ہے۔لوگ اس کو رد کرتے ہیں مگر خدا تعالیٰ ان کو دیتا ہے۔لوگ انکار کرتے ہیں مگر خدا تعالیٰ اس انعام کا اعادہ کرتا ہے۔لوگ کفر کرتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ اس پر اصرار کرتا ہے اور انہیں یہ انعام عنایت فرماتا ہے۔یہ خالق ہی کا کام ہے جو اس طرح کرتا ہے ہے۔حدیثوں میں ایک خبر آئی ہے اور وہ یہ ہے کہ مسیح ایک منارہ پر نازل ہوگا حضرت مسیح موعود نے اس منارہ کے بنانے کی تجویز کی تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ کی باتوں کو پورا کرنا انسان کا فرض ہے اس لئے حضرت مسیح موعود نے ایک مینار کی بنیاد ڈالی تھی۔اس وقت کے حالات کے مطابق مینار کا بنا مشکل کام تھا۔مجھے خوب یاد ہے کہ حضرت صاحب نے مشورہ کیلئے چند آدمی جمع کئے تھے۔بھٹہ تیار ہورہا تھا۔اینٹیں بن رہی تھیں۔بنیا دیں کھودی جا رہی تھیں کہ حکیم حسام الدین صاحب مرحوم آئے انہوں نے حضرت صاحب کے سامنے کھڑے ہو کر کہا حضور ! اس کے لئے دس ہزار روپیہ کی ضرورت ہے حضرت صاحب بار بار فرماویں کہ کوئی ایسی تجویز بتاؤ کہ اس سے کم روپیہ خرچ ہو ہماری جماعت کمزور ہے کہاں دس ہزار روپیہ دے سکے گی۔اس وقت واقعی اس قدر رو پیدہ کا جمع ہونا بھی مشکل تھا۔مگر آج باہر جا کر دیکھ لوڈیڑھ لاکھ کی عمارتیں کھڑی ہیں اس وقت جتنا منارہ بن بنا اور پھر اس وقت بعض وجوہات سے بننارُک گیا۔مجھے خوب یاد ہے کہ ایک آدمی آپ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا کہ ی حضور نے مینار بنانے کے متعلق اعلان کیا تھا کہ بنے گا اور اب روک دیا گیا ہے اس لئے مخالف لوگ ہنس رہے ہیں اور ہم سے محول کرتے ہیں۔آپ نے ہنس کر فرمایا کہ اگر سارے کام ہم ہی کر جائیں تو بعد میں آنے کے والے لوگ کیا کریں گے اور وہ کس طرح ثواب لیں گے پھر آپ نے فرمایا کہ بہت سی برکات ایسی ہیں جن کا نزول مینار کے بننے پر ہوگا۔اللہ تعالیٰ کا ہر ایک کام اندازے کے مطابق چلتا ہے اور جو وقت اس کے پورا ہونے کا