خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 230 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 230

خطبات محمود جلد ۴ ۲۳۰ سال ۱۹۱۴ء لیکن وہ کیا جانتا تھا کہ خدا تعالیٰ نے ایک پیج اپنے ہاتھ سے بویا ہے اور وہ اسے اتنا بڑھائے گا اور اس درخت کو اتنا بڑا بنائے گا کہ اس کے سایہ میں جتنے لوگ بھی آنا چاہیں گے خواہ لاکھوں ہوں یا کروڑوں آجائیں گے اور اس کا سایہ سب کیلئے ہوگا اور اس کی شاخیں پھیلیں گی کہ اس کے نیچے چاہے کتنے آدمی آجاویں وہ سب کو اپنے سائے میں لے لیں گی اور کسی کو سایہ میں لینے سے انکار نہ کریں گی۔ہاں بد بختی انسان اس کے سایہ کے نیچے آنے سے انکار کریں گے کیونکہ خدا تعالیٰ کے رازوں کو وہی لوگ جانتے ہیں جن کو خدا تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔اس زمانہ میں کسی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور آپ کی اس قدر مخالفت ہو رہی ہے اس لئے معلوم نہیں ہوتا کہ حضور کو لوگ کس طرح پہچان کر مان لیں گے۔آپ نے فرمایا کہ پہلی رات کے چاند کو تمام دنیا نہیں دیکھ سکتی مگر وہ بڑھتے بڑھتے اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ اندھوں کے سوا سارے لوگ دیکھ لیتے ہیں۔تو اس وقت آپ کی شان اور قدر کو کون سمجھ سکتا تھا لیکن آج اللہ تعالیٰ نے ثابت کر دیا۔گو خدا کا مسیح اب موجود نہیں ہے مگر اس کے لگائے ہوئے پودے کو خدا خود سیراب کر رہا ہے اور خدا کے ملائکہ اس کے بوئے ہوئے بیج کی پرورش کر رہے ہیں۔ہماری طرف سے کون سی کوشش ہوئی ہے، یہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ لوگوں کے پاس کسی نہ کسی ذریعہ سے حضرت مسیح موعود کی باتیں پہنچ ہی جاتی ہیں۔سیلون سے ایک آدمی کا خط آیا ہے۔وہ لکھتا ہے کہ میں نے آپ کی کتابیں دیکھیں اور آپ کو مان چکا ہوں۔اب مجھے آپ بتلائیں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے اور کس طرح میں اور لوگوں کو بھی یہ حق پہنچاؤں۔ہماری طرف سے وہاں کون گیا ہے اور کس نے اس کو کتا ہیں دی ہیں یہ خدا تعالیٰ کا اپنا ہی کام ہے۔ماریشس سے ایک آدمی کا خط آیا ہے۔وہ بھی اسی طرح لکھتا ہے ہم نے میں سے کس نے یہ کوشش کی ہے اور کون وہاں گیا ہے، کوئی نہیں گیا۔یہ باتیں اسی نے وہاں پہنچائی ہیں جس نے تمام دنیا میں سے ایک بے نشان بستی میں رہنے والے انسان کے دل کو اپنے لئے چنا اور جس میں یہ قدرت تھی اسی نے ان دلوں کو دنیا میں تلاش کیا جن میں اس کی تائید کا جوش پایا جاتا تھا اور اسی نے سیلون اور ماریشس وغیرہ میں ایسے دل تلاش کئے جن میں صداقت کا مادہ تھا۔اسی مقادیان میں ایسے لوگ موجود ہیں جو نہیں جانتے کہ مرزا ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) کیا کرتا رہا ہے۔وہ ایک دکانداری سمجھتے ہیں۔ان کو یہ معلوم نہیں کہ مرزا کا