خطبات محمود (جلد 4) — Page 229
خطبات محمود جلد ۴ ۲۲۹ (۴۹) اللہ تعالیٰ کے احسانات کو یادرکھنا چاہیئے (فرموده ۲۷۔نومبر ۱۹۱۴ء) سال ۱۹۱۴ء حضور نے تشہد ، تعوّ ذاور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔اللہ تعالیٰ کے اپنے بندوں پر بہت بڑے بڑے احسان ہیں مگر بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے منہ سے الحمد للہ نکلتی ہے۔ایک ایک ذرہ ہمارے جسم کا اور ہر ایک ذرہ ہمارے کھانے کا جو ہمارے پیٹ میں جاتا ہے اور ہر ایک قطرہ پانی کا جسے ہم پیتے ہیں اور تمام وہ ہوا جو ہمارے اردگرد پھیلی ہوئی ہے اور ہر ایک سانس کے ساتھ ہمارے اندر جاتی ہے اور ہر ایک چیز جس پر ہماری نظر پڑتی ہے اور ایک ایک لفظ جو ہوا کے ذریعہ ہمارے کانوں میں جاتا ہے اور ہر ایک چیز جسے ہم پکڑتے ہیں اللہ تعالیٰ کے احسانات یاد دلا رہی ہے مگر پھر بھی بہت کم لوگ ہیں جو اس قدر احسانات کی قدر کرتے ہیں۔وہ کیا زمانہ تھا جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعوی کیا۔پھر دنیا نے کس طرح آپ کا انکار کیا اور آپ سے ٹھٹھا اور ہنسی کرتے تھے۔کہنے والے نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ میں نے ہی اسے بڑھایا تھا اور اب میں ہی اسے گھٹا دوں گا۔اور واقعہ میں اس وقت کے حالات ایسے تھے کہ وہ ایسا کہہ سکتا تھا۔اس نے سمجھا کہ میں نے ہی اشاعتہ السنہ میں اس کی کتاب کی تعریف کی ہے اور میری وجہ سے یہ مشہور ہوا ہے اور میں ہی اب ایک مضمون اس کے خلاف لکھ دوں گا اور میں ہی اس پے کفر کا فتویٰ لگا دوں گا تو یہ گر جائے گا اور تمام لوگ اسے چھوڑ دیں گے۔