خطبات محمود (جلد 4) — Page 216
خطبات محمود جلد ۴ ۲۱۶ (۴۷) عذاب سے قبل اصلاح انسان کو تباہی سے بچا لیتی ہے (فرموده ۱۳ نومبر ۱۹۱۴ء) سال ۱۹۱۴ء تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے درج ذیل آیت کی تلاوت کی :۔ وَمَا كَانَ اللهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ فرمایا:۔ دنیا میں قسم قسم کے انسان ہوتے ہیں۔ بعض انسان ایک دفعہ حکم سن کر پوری طرح اس کی فرمانبرداری اور اطاعت کرتے ہیں۔ بعض کے دلوں میں بار بار دہرانے سے نیکی اور بھلائی کا خیال پیدا ہوتا ہے۔ کچھ اور لوگ ہوتے ہیں جو بار بار کہنے سے بھی توجہ نہیں کرتے لیکن اگر ان کو سختی سے کہا جائے تو وہ مان لیتے ہیں۔ کچھ ان سے بھی سخت طبائع ہوتی ہیں وہ سختی سے کہنے سے بھی نہیں مانتیں۔ بلکہ سخت ڈر اور خوف ان کو بتایا جائے تو سمجھ جاتی ہیں۔ اور پھر کچھ طبائع ایسی بھی ہوتی ہیں کہ دوسروں کو سزا بھگتے دیکھ کر سچائی کو قبول کر لیتی ہیں ۔ مگر کچھ لوگوں کے دل ایسے سخت ہوتے ہیں کہ جب تک خود ان پر مصیبت نہ ٹوٹ پڑے، ان کے دل نرم نہیں ہوتے ۔ ان میں سے وہ جماعت جو پل کسی جھڑ کی سرزنش ، دھمکی، ڈراوے ہزا کا بلا نظارہ دیکھے اور اپنے اوپر مصیبت آنے کے، ہدایت کو قبول کر لیتی ہے وہ نہایت اعلیٰ درجہ رکھتی ہے۔ اور پھر اس سے اتر کر جس طرح کوئی جماعت ہدایت کو قبول کرتی ہے اسی کے مطابق اس کا درجہ ہوتا ہے مومن انسان کو یہ کا سوچنا چاہئیے کہ میں کس جماعت میں شامل ہوں ۔