خطبات محمود (جلد 4) — Page 197
خطبات محمود جلد ۴ ۱۹۷ سال ۱۹۱۴ء کے دیا عالی خاندان کا ہو درست اعمال نہ کرتا ہو کبھی نجات نہیں پاسکتا۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ یہود کی صفت اب مسلمانوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ یہود کی صفت یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ خدا ہمیں کچھ مقررہ مدت تک عذاب دے کر آزاد کر دے گا ۔ یہ اب مسلمان علماء کا عقیدہ ہے عوام نے تو حد ہی کر دی ہے۔ سادات تو یہ بات سن ہی نہیں سکتے کہ کبھی کوئی کہ بھی سید دوزخ میں جائے گا وہ کہتے ہیں کہ ہمارے لئے آل رسول ہونا ہی کافی ہے۔ حضرت خلیفہ المسیح مرحوم و مغفور فرماتے تھے کہ ہماری رشتہ دار ایک عورت یہاں آئی ۔ تو میں نے اس کو کہا کہ تم اپنے پیر سے یہ تو پوچھنا کہ تمہاری بیعت کا ہمیں کیا فائدہ ہے۔ وہ جب واپس آگئی اور جا کر پوچھا تو پیر صاحب نے کہا معلوم ہوتا ۔ ہوتا ہے کہ تم قادیان گئی ہو اور نور دین نے تمہیں یہ : ہو اور نور دین نے کہیں یہ بتایا ہے۔ اس نے کہا کہ ہاں بتایا تو اُسی نے ہے لیکن مجھے جواب دیجئے وہ کہنے لگا تمہیں اس کا فائدہ معلوم ہی نہیں ۔ قیامت دن جب تم سے سوال و جواب ہوگا تو ہم کہیں گے کہ ان کی ذمہ داری ہم لیتے ہیں ان کو چھوڑ د جائے اور جو کچھ پوچھنا ہے وہ ہم سے پوچھئے ۔ پس تم دوڑتی دوڑتی پل صراط سے گزر کر بہشت میں داخل ہو جاؤ گی ۔ اور دنیا میں خواہ تم کچھ کرو ان سب باتوں کے جواب دہ ہم ہوں گے۔ اور تمہیں کوئی کچھ نہیں کہے گا ۔ ہم سے جب تمہارے متعلق پوچھا جائے گا تو کہہ دیا جائے گا کہ ایک امام حسین کی قربانی ہمارے لئے کافی نہیں ہے۔ یہ سن کر اللہ لا جواب ہو جائے گا اور ہم بہشت میں چلے جائیں گے۔ تو یہود نے تو یہی کہا تھا کہ ہمیں تھوڑے دن ہی آگ چھوئے گی ۔ مگر مسلمانوں نے کہا کہ ہمیں آگ بالکل چھوٹے گی ہی نہیں ۔ انہوں نے یہودیوں سے بھی بڑھ کر ایک قدم آگے مارا۔ یہ ایک بڑی بھاری مشابہت ہے جو آج کل کے مسلمانوں کو یہود سے ہوگئی ہے۔ عام فقیروں ، گدی نشینوں ! وں اور پیروں نے تو بعض بزرگوں اور اولیاء کی یہاں تک طاقت بڑھادی ہے کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ خدا ان سے ڈرتا ہے۔ سید عبد القادر جیلانی کی نسبت اسی قسم کا ایک قصہ بنایا ہوا ہے کہ ایک بڑھیا کے لڑکے کو زندہ کرنے کے لئے انہوں نے عزرائیل سے تمام قبض شدہ روحوں کا تھیلا چھین لیا اور جب وہ شکایت لے کر خدا کے پاس گیا تو خدا تعالیٰ نے کہا کہ شکر کرو کہ اسی پر خلاصی ہو گئی ہے اگر وہ چاہتا تو تو آج تک کی تمام روحوں کو چھوڑ دیتا ہے تو اس قسم کے لغو قصے کہانیاں بنا بنا کر اتنا بڑھایا ہے کہ جس کی کوئی حد ہی نہیں رہی اسی بھروسہ پر وہ کہتے ہیں کہ ہمیں آگ نہیں چھوئے گی۔ ہمارے پیر صاحب