خطبات محمود (جلد 4) — Page 185
خطبات محمود جلد ۴ ۱۸۵ سال ۱۹۱۴ء بھی توجہ نہیں کرتے۔لاکھوں لاکھ ایسے مسلمان جن کے گھروں میں قرآن مجید ہوگا ہی نہیں۔پھر لاکھوں لاکھ ایسے ہیں جنہوں نے اگر گھروں میں قرآن رکھا ہوا ہے تو کبھی اس کی طرف دیکھا بھی نہیں اور طاق پر پڑے پڑے اس پر گرد جم گیا ہے۔پھر لاکھوں لاکھ ایسے ہیں کہ اگر قرآن پڑھتے ہیں تو ایسے رنگ میں کہ معنی نہیں جانتے۔اور اس طوطے سے زیادہ ان کے پڑھنے کی حقیقت نہیں ہوتی جو خود ہی متکلم اور خود ہی مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ میاں مٹھو چوری کھانی ہے وہ قرآن پڑھتے ہیں۔لیکن پڑھنے میں انہیں کوئی لطف اور مزا نہیں آتا نہ ان کی تسلی ہوتی ہے نہ انہیں قرآن سے محبت پیدا ہوتی ہے بلکہ یونہی ورق الٹتے جاتے ہیں ان کے دل میں یہ وہم بھی نہیں ہوتا کہ ہم محبت ، شوق اور عمل کرنے کے ارادہ سے قرآن کو پڑھتے ہیں وہ ایک قصہ یا وظیفہ سمجھ کر پڑھتے ہیں۔میں نے سنا ہے کہ لوگوں میں بعض ایسے وظیفے مشہور ہیں جن کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ ان کے پڑھنے سے مال و دولت بڑھتی ہے۔لیکن یہ وظیفے ایسے لغو اور بے معنی ہوتے ہیں کہ ان کے الفاظ کے کچھ معنی ہی نہیں بنتے لیکن پھر بھی لوگ ان کے مفید ہونے کا اعتقاد رکھ کر ان کو رشتے رہتے ہیں۔اسی طرح لوگ قرآن پڑھتے ہیں جو کہ ان کے نزدیک ایک بے معنی الفاظ کا وظیفہ ہوتا ہے۔اللہ ! مسلمان ہے اور وہ مسلمان جن کی کتاب میں اس بات پر حیرت ظاہر کی گئی ہو اور اللہ نے یہود پر یہ الزام لگایا ہو کہ یہودی بھی کوئی حیثیت رکھتے ہیں۔یہ تو ایک ایسی جماعت ہے جو کہ توریت کے معنی نہیں سمجھتی انہوں نے تو اپنے خیالات کو ہی مذہب بنایا ہوا ہے اور نہیں جانتے کہ مذہب ہوتا کیا ہے۔انہوں نے سن لیا کہ ہم موسیٰ (علیہ السلام) کی امت ہیں اس لئے یہودی کہلانے لگ گئے۔انہیں تو کتاب کا علم ہی نہیں اور یہ اسے سمجھتے ہی نہیں انہوں نے کچھ جھوٹ موٹ باتیں سنی ہوئی ہیں یا جو انکے اپنے خیالات ہیں انہی پر ان کے مذہب کا دارو مدار ہے۔اب مسلمانوں کے مذہب کا دار ومدار بھی روایات اور خیالات پر آ گیا ہے۔قرآن مجید نے جو اعتراض یہود پر کیا تھا، کیا آج مسلمانوں کے گھروں میں وہ بات صادق نہیں آتی رہی۔میں نہیں سمجھتا کہ مسلمانوں میں سے ایک فیصدی بھی قرآن پڑھنے والے ہوں گے اور میں نہیں یقین کرتا کہ لاکھ میں سے پانچ بھی ایسے ہوں گے جو قرآن شریف کے معنی جانتے ہونگے۔یہاں اتنے آدمی بیٹھے ہیں ان میں سے بھی نصف کے قریب ایسے نکلیں گے جو ترجمہ نہیں