خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 186

خطبات محمود جلد ۴ ۱۸۶ سال ۱۹۱۴ء نتے۔حالانکہ یہاں اس قدر قرآن شریف پڑھایا جاتا ہے کہ دنیا کے صفحہ پر اور کسی جگہ نہیں پڑھایا جا تا۔تو مسلمانوں کا ایک کثیر حصہ ایسا ہے جو نہیں جانتا کہ قرآن میں کیا لکھا ہے۔لیکن پھر بھی وہ کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔ہم جنت میں جائیں گے کیا انہوں نے مسلمانوں کے گھر پیدا ہو کر جنت میں جانے کا ٹھیکہ لے لیا ہے؟ ان کا مذہب محض سنی سنائی باتوں، روایتوں اور خیالات پر رہ گیا ہے جو کچھ مولوی انہیں سناتے ہیں وہی مان لیتے ہیں۔ایک دوست نے سنایا کہ کچھ مسلمانوں میں بحث ہورہی تھی کر مسلمین کے کیا معنی ہیں اور مسلم کے کیا ؟ تو آخر یہ فیصلہ ہوا کہ مسلمین وہ ہوتے ہیں جو پرانے ہوں اور مسلمان وہ جو نو مسلم ہوں۔تو مسلمان عربی زبان سے اتنے نا واقف ہو چکے ہیں کہ یہ بھی نہیں جانتے کہ اسے پڑھا جائے تو اور معنی ہونگے اور ی پڑھا جائے تو اور۔اکثر مسلمان تو صحیح معنوں میں یہ بھی نہیں جانتے کہ قرآن کیا ہے اور دین کیا ہوتا ہے۔آیا کوئی خدا سے کتاب آئی بھی ہے یا نہیں۔اور اگر آئی ہے تو اس کا مطلب کیا ہے۔کسی گاؤں میں جا کر پوچھ لو وہاں ایسے ایسے شریعت کے مسئلے رائج ہوں گے جن کو سن کر حیرت آ جائے گی نئی سے نئی شریعتیں بنی ہوئی ہیں۔اور ملا لوگ جھٹ پٹ نیا مسئلہ گھڑ دیتے ہیں۔ایک مدت سے مجھے ایک مسئلہ حیران کر رہا ہے اور کئی خطوط آچکے ہیں کہ میں نے فلاں کام کیا تھا۔مولوی صاحب کہتے ہیں کہ تمہارا نکاح ٹوٹ گیا ہے۔نہ معلوم ہر ایک کام کو نکاح سے کیا تعلق ہے کہ جھٹ ٹوٹ جاتا ہے۔لیکن مولوی کچھ نہ کچھ تعلق نکال ہی لیتے ہیں اور عجیب و غریب شریعت کے مسئلے بنا لیتے ہیں۔مگر بڑے شرم کی بات ہے کہ قرآن شریف نے تو یہود پر اعتراض کیا تھا کہ کتاب نہیں جانتے یعنی یہ نہیں جانتے کہ اس میں کیا لکھا ہے ان کے نہ جاننے کی وجہ یہ تھی کہ اصل تو ریت عبرانی زبان میں تھی اور یہو دعبرانی بہت کم واقف ہے کیونکہ وہ بہت کم بولی جاتی تھی اس لئے متروک ہوگئی۔مگر تعجب ہے کہ عربی تو بڑی کثرت سے بولی جاتی ہے۔عرب میں، مصر میں ، طرابلس میں ، مراکش میں الجیریا میں ، ٹیونس میں عربی زبان ہی بولی جاتی ہے۔ان کے علاوہ اور بہت سے علاقے ہیں جہاں کی زبان عربی ہے۔اس لئے مسلمانوں کو قرآن شریف سمجھنے کیلئے وہ وقتیں نہ تھیں جو یہود کو تھیں لیکن پھر بھی یہود کی نسبت خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ ایسی رڈی قوم ہے کہ نہیں جانتی کہ کتاب میں کیا لکھا ہوا ہے اور اپنے خیالات پر چل رہی ہے، مگر آج کل مسلمانوں کی حالت ان سے بھی بدتر ہو چکی ہے۔ہر ایک گاؤں اور شہر میں الگ الگ