خطبات محمود (جلد 4) — Page 140
خطبات محمود جلد ۴ ۱۴۰ سال ۱۹۱۴ء پاگل اور عقلمند میں فرق:۔میں ہمیشہ اس بات پر غور کرتا ہوں کہ پاگل اور عقلمند میں کیا فرق ہوتا ہے تو مجھے یہی بات ثابت ہوئی ہے کہ پاگل وہی ہوتا ہے جو ایک بات کا دعویٰ تو کرے لیکن عمل سے اس کو ثابت نہ کرے۔اور دانا وہ ہوتا ہے جو جس بات کا ہے دعوی کرے اس کو عمل سے ثابت کر دے۔مثلاً اگر ایک شخص کہے کہ میں بادشاہ ہوں اور دراصل وہ بادشاہ نہ ہو تو لوگ اسکو پاگل کہیں گے لیکن اگر ایک شخص اپنے آپ کو بادشاہ کہے اور فی الواقع وہ بادشاہ ہو تو اسکو کوئی پاگل نہیں کہے گا۔اسی طرح وہ شخص جو ٹھیکریوں کو روپے اور اینٹوں کو سونا چاندی کہے پاگل ہوتا ہے لیکن روپوں کو روپے اور سونے کے چاندی کو سونا چاندی کہنے والے کو کوئی پاگل نہیں کہتا۔پس یہی پاگل اور عقلمند میں فرق ہوتا ہے۔لیکن بڑے تعجب کی بات ہے کہ اکثر لوگ نیک اور متقی ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور وہ نہیں ہوتے تو دنیا انہیں پاگل نہیں کہتی۔حالانکہ اس پاگل اور اس پاگل میں (جس کو لوگ پاگل کہتے ہیں ) کوئی فرق نہیں ہوتا۔وہ بھی ایک دعوی کرتا ہے جس کا ثبوت اس کے پاس نہیں ہوتا اور یہ بھی متقی اور پر ہیز گار ہونے کا دعویٰ کرتا ہے جس کو اپنے عمل سے ثابت نہیں کر سکتا۔وعدہ پر قائم رہنا: اسی طرح بہت سے لوگ ہوتے ہیں جو وعدہ تو کرتے ہیں لیکن اپنے وعدہ پر قائم نہیں رہتے۔وہ کہتے ہیں کہ ہم اپنے وعدوں کے مطابق کر رہے ہیں لیکن ان کا عمل ان کی بات کی تصدیق نہیں کرتا۔دوسری قوموں کو کیا کہنا ہے۔مسلمانوں کو ہی دیکھ لو کہ ایک مسلمان کتنے وعدے کرتا ہے پہلے کلمہ پڑھتا ہے اَشْهَدُ أن لا إلهَ إِلَّا الله۔یہ کتنی بڑی شہادت ہے۔کہتا ہے کہ میں خدا کے سوا کسی کو معبود نہیں مانتا۔تمام طاقتیں ، خوبیاں اور بڑائیاں اسی کیلئے ہیں۔میں کسی کو خدا تعالیٰ ایسی عزت نہیں دیتا کسی کو اس سے زیادہ طاقتور نہیں سمجھتا۔لیکن باوجود یہ باتیں کہنے کے کہیں عزت کی وجہ سے، کہیں نفس کی خواہشات کی وجہ سے، کہیں عہدہ حاصل کرنے کی غرض سے سازشیں کرتا ہے۔جھوٹ، غیبت، چوری، ڈاکہ زنی قتل اور طرح طرح کے فسق و فجور کرتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ میں لا إلهَ إِلَّا اللہ کا قائل ہوں۔کنچنیاں بھی باوجود اس قدر گندی اور پلیدی کے یہی کہتی ہیں کہ الحمد للہ کہ ہم مسلمان ہیں۔جیل خانوں میں اگر خطر ناک سے خطر ناک جرم کے قیدی سے بھی پوچھا جائے تو وہ بھی یہی کہتا ہے کہ مسلمان ہوں۔حالانکہ مسلم وہ ہوتا ہے جس