خطبات محمود (جلد 4) — Page 138
خطبات محمود جلد ۴ ۱۳۸ سال ۱۹۱۴ء بری بات دیکھو تو اس سے روک دو۔اور حافظین لحدود اللہ ہو جاؤ۔پولیس مینوں کی طرح لوگوں کو برائی سے روكو دین پر قائم ہو جاؤ:۔ایک بیھیں تو تم سٹیشنوں پر کرو گے ایک بیج یہاں بھی کرتے جاؤ سٹیشنوں پر تو تمہیں کوئی روکنے والا نہ ہوگا۔تم اسراف سے کام نہ لینا۔بیعیں بے شک کرو اس سے ہم منع نہیں کرتے لیکن اسراف سے بچنا۔تم لوگوں کے کیلئے نمونہ بننا۔ان کی توجہ تمہاری طرف ہے۔وہ دیکھیں گے کہ تم کیا سیکھ کر آئے ہو۔تم ان کیلئے ٹھوکر کا باعث نہ ہو جاؤ۔اپنے گھروں کے فسادوں کو دور کرو اور دین کے لئے اپنے اندر خاص جوش رکھو۔بچپن میں تم سیکھ لو اور بچپن میں کام کرو تا کہ بڑے ہو کر تمہیں کوئی خاص مشکل نہ پڑے۔اور بچپن میں ہی نماز ، روزہ ،صدقہ، زکوۃ کی عادت ڈالو تا کہ بڑے ہو کر تم کو تکلیف نہ ہو۔میں نے دیکھا ہے کہ جو چھوٹے ہونے کی حالت میں نماز نہیں پڑھتے وہ بڑے ہو کر نماز میں پاؤں سیدھا نہیں رکھ سکتے کیونکہ درد ہوتا ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کو عادت نہیں۔اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہاں موقعہ دیا ہے کہ تم ہر ایک نیک کام کو سیکھو۔دنیا کے بیچے گنہ گار یا ملزم نہیں ان کو موقع نہیں ملا لیکن تم الزام کے نیچے ہو اور تم مجرم ہو۔کیونکہ تم سن چکے ہو اور تمہیں تعلیم دی گئی ہے تم اپنی اصلاح اسی وقت کرو۔چھوٹا پودا جو ابھی اُگا ہی ہوا سے بچہ بھی اپنی انگلی پر لپیٹ سکتا ہے لیکن وہی پودا جب درخت بن جاوے اور بڑا درخت ہو جاوے تو اس کو اکھیڑنا مشکل ہے تم ابھی سے اپنے دلوں میں دین کی تعلیم بٹھا لو۔اس وقت جو تعلیم تم سنتے ہوا سے ذہن نشین کر لو اور اس پر عمل کرو۔خدا تعالیٰ تمہیں توفیق دے تم دین کو سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ۔اور جو تم نے سیکھا ہے اس میں سے خرچ کر کے ترقی کرو۔ایک چیز انسان خرچ کرتا ہے تو وہ چیز بڑھتی ہے تم دین کولوگوں کو سکھاؤ تم خیریت سے جاؤ اور خیریت سے اپنے گھروں میں رہو اور گھر والے تم کو اور تم ان کو خیریت سے دیکھو۔پھر اس میں جو تم نے سیکھا ہوا ہے ترقی کر کے مع الخیر یہاں واپس آؤ اور اس سے آگے آکر سیکھو۔الفضل ۲۳ - جولائی ۱۹۱۴ ء ) ل التوبة : ١١١، ١١٢ اعجوبے: اعجوبہ۔عجیب شے۔انوکھی چیز مسلم کتاب الایمان باب بيان كون النهي عن المنكر من الايمان