خطبات محمود (جلد 4) — Page 130
خطبات محمود جلد ۴ سال ۱۹۱۴ء خوف میں ہیں ، تکالیف اٹھاتے ہیں اور حزن میں مبتلا ہیں تو وہ کبھی سچے مذہب کے پیرو نہیں ہو سکتے۔لیکن جن لوگوں کو انعام ملیں اور ان کے خوف وحزن دور ہو جائیں وہی سچے مذہب کے معتقد کہلا سکتے ہیں۔اب دیکھو کہ کس زمانہ میں یہ آیت نازل ہوئی اور اس وقت آنحضرت صلی یا اسلام کے پاس کتنے آدمی تھے اور وہ کس حالت میں تھے۔بہت تھوڑے لوگ تھے جو کہ لوگوں کی نظروں میں حقیر اور ذلیل سمجھے جاتے تھے مگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ بہت بڑا درجہ رکھتے تھے۔لوگوں کے خیال میں وہ بے کار اور فضول تھے لیکن اللہ تعالیٰ کے علم میں وہی بلند ہونے والے تھے۔ان کے مقابلہ میں یہودیوں ، عیسائیوں ، مجوسیوں اور کفار کی بڑی سلطنتیں تھیں یا ان کے جتھے تھے مگر باوجود اس قدر ملک اور طاقت رکھنے کے انہیں ذلیل اور خوار ہونا پڑا۔پہلے انہیں کوئی غم اور خون نہ تھا۔لیکن آنحضرت صلی ایم کے مقابلہ پر آکر وہ مختلف قسم کے خوف اور حزن میں مبتلا ہو گئے۔پس یہ باتیں ہوتی ہیں جو کسی مذہب کو سچا ثابت کرتی ہیں کیونکہ انہی باتوں سے پتہ لگتا ہے کہ فلاں جماعت کا خدا تعالیٰ سے تعلق ہے اور فلاں کا نہیں ہے۔کسی مذہب کی سچائی کی یہ علامت ہمیشہ کے لئے قائم ہے کہ اگر اس کے پیروؤں سے خوف وخون جاتا رہے اور خدا تعالیٰ کے انعام و اکرام کے دروازے ان پر کھلے جائیں تو وہ سچا ہے۔لیکن اگر وہ خوف و حزن میں مبتلا ہوں تو سمجھنا چاہیئے کہ وہ جھوٹے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مختلف کتابوں میں تحریر فرمایا ہے کہ آجکل مسلمان قسم قسم کے خوفوں اور حزنوں نے میں جو مبتلا ہیں تو اگر یہ سچے مسلمان ہوتے تو خدا تعالیٰ کیوں انہیں ذلیل کرتا۔اور کیوں یہ تباہ ہوتے ہ جاتے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا خدا تعالیٰ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اس لئے وہ انہیں ان تکالیف سے نجات بھی نہیں دلاتا۔پس تم اپنے اعمال پر غور کرو اور جس وقت دیکھو کہ اللہ تعالیٰ کے ان تعلقات میں کوئی کمی واقع ہو گئی ہے اور تمہیں خوف وحزن میں مبتلا ہونا پڑا ہے توفورا اپنے اندر تبدیلی پیدا کر لو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان اللہ لَا يُغَيْرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ ۳ پس اگر تم کسی خوف یا حزن میں مبتلا ہو جاؤ تو فورا اپنی اصلاح کی فکر میں لگ جاؤ۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے مضبوط تعلق پر قائم رہیں اور ہمارے خوف دور ہو کر ترقی کریں۔اور اللہ تعالیٰ ہمیں اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے نجات دے اور جس طرح اپنے پاک بندوں -