خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 129

خطبات محمود جلد ۴ ۱۲۹ سال ۱۹۱۴ء یہی ایک زندہ ثبوت اس کے سامنے پیش کیا جائے گا کہ جس مذہب کے ساتھ خدا تعالیٰ کی تائید اور نصرت تمہیں شامل نظر آتی ہے وہی سچا ہے اور جس کے ساتھ تائید نہیں وہ جھوٹا ہے اور اس کے سچا ہونے کا دعویٰ کرنے والوں کا صرف دعوئی ہی دعوئی ہے۔کیونکہ جب کوئی شخص یہ دعوی کرے کہ فلاں حاکم سے میرا تعلق ہے تو اس کا ثبوت وہ یہ دے گا کہ اگر کوئی مصیبت کا تکلیف کا وقت آئے تو وہ اس کی مدد کرتا ہے لیکن اگر وہ حاکم اس کو دکھ سے نہیں چھڑاتا یا اس کے سر پر آئی ہوئی آفت کو دور کرنے میں اس کی مدد نہیں کرتا تو اس کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اور اگر ایک شخص کو جب کوئی تکلیف پہنچے تو فورا اس ملک کا بادشاہ اس کی مدد کیلئے آمادہ ہو جائے اور اگر اسے مالی مشکلات پیش آئیں تو بادشاہ کے خزانے اس کیلئے کھول دیئے جائیں۔اور اگر اسے کوئی ذلیل کرنا چاہے تو بادشاہ اس کی عزت قائم کر دے تو کیا ان نشانات کو دیکھ کر بھی کوئی کہہ سکتا ہے کہ بادشاہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔یا ایک شخص بادشاہی دربار میں ذلیل کیا جاتا ہو لوگ اُسے دکھ دیتے ہوں لیکن بادشاہ کو کوئی پرواہ نہ ہو تو کیا کوئی یہ بات مان سکتا ہے کہ اس شخص کا تعلق بادشاہ سے ہے خواہ وہ کتنا ہی کہتا رہے۔اسی معیار کو خدا تعالیٰ نے پیش کر کے فرمایا ہے کہ وہ لوگ جو مومن کہلاتے ہیں اور وہ جو یہودی اور نصاری اور صابی کہلاتے ہیں ہیں جو کوئی اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کے احکام کے ماتحت نیک عمل کرتا ہے ایسے لوگوں کو اس کی طرف سے بڑے بڑے اجر ملیں گے اور ایسے لوگوں کیلئے کوئی خوف نہ ہوگا اور نہ انہیں کوئی خون ہوگا۔تو اللہ تعالیٰ نے سچے مذہب کا یہ معیار فرمایا ہے کہ قرآن ایک ایسے زمانہ میں اُترا ہے کہ جو اس کو مانتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہمارا مذ ہب سچا ہے اور یہودی کہتے ہیں کہ ہمارا مذ ہب سچا ہے۔تو جب ہر ایک مذہب سچا ہونے کا ہی دعویٰ کرتا ہے تو جو در حقیقت سچا مذہب ہے اس کی دوسرے مذاہب پر کوئی فضیلت ہونی چاہیئے اور ساتھ ہی اس فضیلت کی دلیل بھی ہونی چاہیئے۔پس بچے مذہب کی فضیلت کی یہ دلیل ہے کہ اس پر چلنے والے عمل صالح کرنے والے لوگ ہوں گے جو کہ خدا تعالیٰ کے پیارے ہوں گے۔اور ان کو بڑے بڑے انعام دیئے جائیں گے اور ان کو کسی قسم کا کوئی خوف نہیں ہوگا۔اگر انہیں پچھلی تکالیف کی وجہ سے کوئی خون اور ملال ہوگا تو ان پر ایسے انعام کئے جائیں گے کہ وہ بھی بھول جائیں گے۔اب اگر کسی مذہب والے کہتے ہیں کہ ہم خدا کے پیارے ہیں۔اور ہم سے خدا تعالیٰ کا تعلق ہے لیکن وہ