خطبات محمود (جلد 4) — Page 81
خطبات محمود جلد ۴ ΔΙ (۲۰) سال ۱۹۱۴ء اللہ کے عہدوں کو پورا کرنے سے ہی انعام حاصل ہوتے ہیں (فرموده یکم مئی ۱۹۱۴ء) تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے درج ذیل آیات کی تلاوت کی:۔يُبَنِي إِسْرَائِيلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِي الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَوْفُوا بِعَهْدِى أَوْفِ بِعَهْدِ كُمْ وَإِيَّايَ فَارُهَبُونِ۔وَامِنُوا بِمَا اَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَكُمْ وَلَا تَكُونُوا أَوَّلَ كَافِرٍ بِهِ وَلَا تَشْتَرُوا بِايْتِي ثَمَنًا قَلِيلًا وَإِيَّايَ فَاتَّقُونِ وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقِّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُونَ وَأَقِيمُوا الصَّلوةَ وَأتُوا الزَّكَوةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ آتَا مُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ اَنْتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَبَ أَفَلَا تَعْقِلُونَ۔وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوةِ وَإِنّهَا لَكَبِيرَةُ إِلَّا عَلَى الْخَشِعِينَ الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلقُوا رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پھر فرمایا:۔بہت لوگ دنیا میں اس قسم کے ہوتے ہیں کہ وہ انصاف سے کام نہیں کرتے۔جہاں کہیں ان کا معاملہ کسی سے پڑتا ہے ان کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ دوسرے کی چیز ہم لے لیں۔یہ لوگ معاہدات کی پابندی نہیں کرتے ، حالانکہ بڑے شرم کی بات ہے کہ جب ایک بات پر معاہدہ ہو جائے تو اس سے یہ امید رکھی جاوے کہ اس کو زید تو پورا کرے اور میں نہ کروں اور کسی کا نقصان ہو تو ہولیکن مجھے ضرور ہی فائدہ پہنچ جاوے۔تاجر لوگ چاہتے ہیں کہ ہر ایک چیز کی قیمت تو پوری لیں لیکن چیز گندی اور خراب