خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 67

خطبات محمود جلد ۴ ۶۷ سال ۱۹۱۴ء نہیں ہوا بلکہ ہمیشہ ہمیش سے ایسا ہوتا آیا ہے۔اور یہ سنت اللہ ہے کہ اس نے پہلے جب تم مردہ تھے تو اس نے تم کو کھڑا کیا۔پھر جب تم میں قابلیت نہ رہے گی تو تم کو مار دے گا اور تمہاری بجائے اور لوگوں کو کھڑا کر دے گا۔اسی طرح پر ان کو مار کر اور دوسروں کو اس کی جگہ کھڑا کر دے گا۔پچھلی آیات سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بالکل منکر نہ تھے بلکہ وہ بجائے ایک اللہ کے کئی ایک معبودوں کو مانتے تھے۔اور ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی کسی صفت کا جھٹلا نا گو یا الہ تعالی کا جھٹلا نا ہے۔ذکر تو اس بات کا تھا کہ نبی کو مان لو ورنہ تم سکھ نہ پاؤ گے تمہیں دکھ ہوگا لیکن یہاں كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللہ فرمایا ہے اس لاین سے معلوم ہوا کہ نبی کا انکار خدا کا ہی انکار ہے کیونکہ نبی ہی کے ذریعے خدا کی توحید قائم ہوتی ہے۔چنانچہ اس زمانے میں بھی ایک انسان دنیا میں آیا جس نے قرآن کریم کی صداقت ثابت کر دی۔اگر مسیح موعود علیہ السلام تشریف نہ لاتے تو قرآن کی صداقت ظاہر نہ ہوتی۔حدیث شریف میں آتا ہے لَوْ كَانَ الْإِيمَانُ بِالكُرَيَّا لَنَا لَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ فَارِسَ ۲ تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان ایک زمانہ میں دنیا سے اُٹھ جاوے گا اور اسے ایک آدمی اہل فارس میں سے دوبارہ لاوے گا۔پھر اللہ تعالیٰ اور نبی کریم صلی سیستم کی سچائی ظاہر ہوگی۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو فرمایا ہے آنتَ مِلَّى مَنْزِلَةِ تَوْحِيدِى وَتَفْرِيدئی سے کہ تیرے ہی ذریعہ میری توحید و تفرید ثابت ہوئی۔پھر ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یا شمس یا قمر سے کہا ہے یا شمس اس لئے فرمایا کہ تیرے آنے سے ہی خدا تعالیٰ ظاہر ہوا۔اور قمر اس لئے کہ یہ سب روشنی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہے اور اس کی ہے۔اور اگر وہ نہ ہوتا تو آپ بھی نہ ہوتے۔پس انبیاء کی آمد ایمان کو درست کرتی ہے اور خدا تعالیٰ کو اور پہلے نبیوں کو دوبارہ منواتی ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے منکرین نبوت کا نام تَكْفُرُونَ بِاللهِ رکھا ہے۔وَكُنتُمْ أَمْوَاتًا حالانکہ تم میں بارہا ایسے آدمی آتے رہے کہ تم مردہ تھے اور انہوں نے تم کو زندہ کیا۔یہ ایک عجیب بات ہے کہ دنیا میں جب کبھی بھی کوئی نبی آیا تو اس کی وفات کے بعد لوگوں نے الہام کا انکار کر دیا کہ اب الہام کا دروازہ بند ہو گیا ہے اور اب کسی پر الہام نہیں ہوسکتا اور نہ کوئی نبی اب آ سکتا ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام آئے تو ان کے بعد بھی ایسا ہی ہوا کہ یہود نے پھر الہام سے انکار کر دیا۔اور الہام کے دروازہ کو مسدود ہی سمجھا۔اور اسی طرح حضرت عیسی علیہ السلام اور ایسا ہی نبی کریم صلی ای یتیم کے وقت