خطبات محمود (جلد 4) — Page 64
خطبات محمود جلد ۴ ۶۴ سال ۱۹۱۴ء ہے۔اور وہ زمین میں فساد کرتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ فساد مت کرنا۔یہ پیشگوئیاں ہیں جو کہ صرف صحابہ کیلئے ہی نہ تھیں بلکہ اب بھی جو شخص و یسا بن جاوے اس کے ساتھ پوری ہوسکتی ہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کوکتا ہی کوئی دکھ ہو یا تکلیف ہو آپ گھبراتے نہ تھے۔اسی طرح حضرت خلیفہ مسیح ( خدا کی آپ پر ہزاروں ہزار رحمتیں ہوں) کو میں نے دیکھا ہے آپ بھی کبھی کسی مشکل اور کسی دکھ سے گھبراتے نہیں تھے۔آپ فرماتے تھے کہ دنیا وی دکھ اور مصیبتیں کچھ حقیقت نہیں رکھتیں۔ان لوگوں کا دل سکینت میں ہوتا ہے دنیاوی مصیبتیں ان کے سامنے کچھ حقیقت نہیں رکھتیں۔تم بھی ایسے ہی بنو۔خدا تعالیٰ کے خزانے وسیع ہیں اس کے خزانے غیر محدود ہیں۔اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑ وہ تمہیں آرام ملے گا۔اس سے تعلق بڑھانے سے کوئی مصیبت تم کو ستا نہیں سکتی۔کیونکہ جب انسان ایک مالک سے تعلق کر لے تو اس کے ماتحت اسے کچھ نہیں کہہ سکتے۔جب کسی آدمی کو کسی بادشاہ کا چپڑاسی دُکھ دے تو جب وہ بادشاہ کا قرب حاصل کرلے تو چپڑاسی کا ڈر نہیں رہتا۔ایک قاضی کے پاس کسی آدمی نے کچھ روپیہ امانت رکھا لیکن جب وہ واپس لینے کیلئے آیا تو قاضی نے کہہ دیا کہ کیسا روپیہ، مجھے کب دیا تھا تم غلط کہتے ہو۔اس نے کہا حضور ! فلاں وقت اتنی تعدا دروپوں کی میں نے آپ کے حوالے کی تھی کہ اسے امانت رکھیں تو قاضی نے بڑی سختی سے اس بیچارے کو باہر نکلوا دیا اور کہا کہ کیا ہم خائن ہیں۔تم نہیں جانتے کہ میں شہر کا حاکم ہوں قاضی ہوں تم مجھ پر بدظنی کرتے ہو۔وہ بے چارہ بادشاہ کے پاس فریاد لے کر گیا تو بادشاہ نے کہا کہ میں اب کیا کر سکتا ہوں وہ کہہ دے گا کہ میں قاضی ہوں میں ایسا کر سکتا ہوں اور ثبوت تو کوئی ہے نہیں۔ہاں البتہ ایک طریقہ ہو سکتا ہے۔اگر تم ایسا کرو تو شاید تمہارا روپیہ واپس ملے سکے۔وہ یہ کہ کل جب جلوس نکلے تو تم بھی دیکھنے والوں میں کھڑے ہو جانا۔مگر قاضی کے نزدیک یا پاس کھڑے ہونا۔میں آؤں گا اور تمہیں السّلامُ عَلَيْكُمْ کہوں گا۔تم ڈرنا نہیں اور بڑی بے تکلفی سے میرے ساتھ باتیں کرنا۔اس نے ایسا ہی کیا۔جب بادشاہ آیا اور اس نے السّلامُ عَلَيْكُمْ کہا تو اس نے وَعَلَيْكُمُ السّلامُ کہا۔بادشاہ نے کہا کہ کیوں میاں تاجر ( اس کا نام لے کر ) بڑے افسوس کی بات ہے کہ تم اتنی مدت ہوگئی کہ کبھی ملنے کو ہی نہیں آئے۔تم تو ہمارے دوست ہو۔غرض اسی طرح وہ اور بھی بڑی بے تکلفی سے باتیں