خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 507 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 507

خطبات محمود جلد ۴ ۵۰۷ سال ۱۹۱۵؛۔۔ساتھ کس قدر استہزاء اور ہنسی ہے۔ایک چور تو چوری کر کے ایمان میں رہ سکتا ہے لیکن ایک ایسا انسان جو خدا اور اس کے رسولوں کے ساتھ استہزاء اور ہنسی سے کام لیتا ہے خدا تعالیٰ کے نزدیک بہت مُجرم ہے۔خدا تعالیٰ کے انبیاء کے ساتھ استہزاء کرنے والا در حقیقت خدا تعالیٰ سے استہزاء کرتا ہے۔گو بظاہر یہ گناہ بہت چھوٹا سا معلوم ہوتا ہے۔لیکن در حقیقت بہت بڑا گناہ ہے۔اس آیت کریمہ میں خدا تعالیٰ نے استہزاء کے متعلق بڑی تنبیہ فرمائی ہے دراصل یہ آیات تو منافقوں کے متعلق ہیں لیکن ساتھ ہی خدا تعالیٰ نے اس مضمون کو بھی بیان فرمایا ہے کہ وہ دل جو یقین اور نور معرفت سے معمور ہے اور پھر باوجود مومن ہونے کے قدم کافرانہ رکھتا ہے اور استہزاء کا طریق اختیار کرتا ہے، درحقیقت وہ خدا تعالیٰ سے دور ہے۔بہت سے ہیں جو خدا تعالیٰ کا نام ہنسی سے لیتے اور فضول فضول سی باتوں پر خدا تعالیٰ کی آیات کو چسپاں کرتے ہیں۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ڈاکٹر عبد الحکیم مرتد قادیان میں تھا اور ان دنوں میاں شریف صاحب کو ایک بیماری تھی اور ناک سے بہت پانی بہتا تھا۔اس وقت اس نے آیت جَنَّتٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا الأَنْهَارُ سے پڑھی۔گو میں اس وقت ہے چھوٹا تھا لیکن اس کا ایسے موقع پر اس آیت کو پڑھنا مجھے سخت ناگوار گزرا جس کی وجہ اس سے مجھے سخت نفرت ہو گئی۔اس نے خدا تعالیٰ کی آیت سے استہزاء کیا جس کی وجہ سے دیکھو اسے خدا تعالیٰ نے کیسا ذلیل کیا۔اسے ایسی خفیف اور چھوٹی چھوٹی باتوں کی پرواہ نہ کرنے کی وجہ سے کس قدر صداقتوں کا انکار کرنا پڑا۔میں دیکھتا ہوں ہمارے بعض دوست اب بھی اس مرض میں مبتلا ہیں۔ان کو چاہیے کہ اس سے پر ہیز کریں۔حضرت خلیفہ امسیح الاول رضی اللہ عنہ ہمیشہ اس بدی کی مذمت کرتے رہتے اور اس کے چھوڑنے کیلئے بہت زور سے تاکید فرمایا کرتے۔جیسا کہ میں نے کہا ہے۔میں نے اب بھی دیکھا ہے کہ بعض دوست با وجود حق کو سمجھنے کیلئے محض روانی زبان اور مشق کیلئے ایسے اہم مسائل پر بحث و مباحثہ کرتے ہیں جن کے وہ اہل نہیں۔اور پھر باوجود دلائل جاننے کے دوسروں سے دلائل مانگتے اور ان پر عجیب عجیب جرحیں کرتے ہیں۔مثلاً بعض تو خدا تعالیٰ کی ہستی پر گفتگو کرتے ہیں۔ایک خدا کی ہستی کا منکر بن جاتا ہے اور وہ اپنے دلائل دینے شروع کرتا ہے اور بڑے زور سے یہ ثابت کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ نہیں ہے ادھر سے دوسرا اس کے دلائل کو تو ڑتا اور اپنی تائید میں بڑے بڑے دلائل دیتا اور آیات قرآنی پیش کرتا ہے پھر ایک