خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 497 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 497

خطبات محمود جلد ۴ ۴۹۷ سال ۱۹۱۵؛ پڑنے لگے اور مقابلہ نہ ہو تو پاؤں لے کر دوڑتے ہیں۔یہ زندگی کی علامت ہے کہ دل ، کان، آنکھ غرض تمام اعضاء ایک دوسرے کی مدد کو پہنچتے ہیں۔پس جماعت کی زندگی کی علامت بھی یہی ہے کہ تمام افراد ایک دوسرے کی تکلیف کو محسوس کریں۔اگر ہندوستان کے اس سرے پر تکلیف ہو تو چاہیئے کہ تمام اطراف عالم میں بجلی کی سی رو دوڑ جائے۔اور ایک احمدی کے درد کی ٹیس پانچ لاکھ سے زیادہ قلوب پر اثر کرے۔اگر ایک کو خوشی ہے تو تمام کے تمام خوشی سے بھر جائیں یہ بات ہو تو پھر ہماری جماعت زندہ جماعت ہے نہیں تو جماعت زندہ نہیں اور اگر زندہ ہے تو بیمار ضرور ہے۔زندگی تو نام ہے حرکت کا احساس کا۔جس جماعت میں حرکت نہیں ، احساس نہیں ، وہ کب حقیقی طور پر زندہ کہلا سکتی ہے۔میں ایک مجموعی حالت میں یک رنگی اور یکساں جوش ان کے کاموں میں نہیں دیکھتا یہ تو ایسی حالت معلوم ہوتی ہے جیسے بیمار جان کندن حالت میں ہو۔حلق میں پانی یا کوئی دوائی ڈالی گئی اور ہے وہ اُٹھ بیٹھا تھوڑی دیر بعد پھر اسی بستر پر گر پڑا۔کوئی تحریر نکل جائے کوئی لیکچر ہو جائے تو ایک جوش ایک حرکت ایک احساس ایک زندگی ظاہر ہوتی ہے مگر چند روز بعد پھر ویسے کے ویسے۔سیکرٹری اور محاسب بھی یہی شکایت کرتے ہیں کہ خط لکھتے ہیں تو چندہ بھیج دیتے ہیں ورنہ بعض پھر خاموش۔یہ حالت قابل اطمینان نہیں بلکہ خطرے کی حالت ہے کیونکہ بیمار کی ایسی حالت بجائے صحت کے موت کی طرف لے جانے والی ہوتی ہے۔پس تم میں سے جن کی روحانی زندگی موت کے قریب ہے وہ جلد جلد اپنی حالت بدلیں۔کام کرنے والے اپنے اندر مستقل طاقت پیدا کریں تا کہ انہیں کسی محرک کی ضرورت نہ رہے۔تم کو ایسا بنا چاہیئے کہ دشمن بھی بول اُٹھے کہ یہ جماعت ایک زندہ جماعت ہے۔اللہ تعالیٰ ہماری جماعت میں زندگی کی روح پھونکے۔اس نے پانی تو اپنے فضل سے نازل کر دیا جس سے ہم زندہ ہوئے اب اس زندگی کو برقرار رکھنا بھی اسی کے فضل پر موقوف ہے۔ہم میں سے بہت سے ہیں جن کے حو صلے کمزور ہیں۔الہی ! ان میں اتنی طاقت پیدا ہو کہ وہ اس پانی کو جذب کر کے سرسبز و شاداب ہوں۔میں خدا کے حضور عرض کرتا ہوں تم بھی کرو کہ وہ آپ ہمیں زندہ کر کے ہم سے وہ کام لے جو اس نے ہمارے سپرد کیا ہے اور اس کام کو جو اسی کا کام ہے پورا کرنے اور نباہنے کی توفیق عطا فرما دے۔آمین۔ل الانعام : ۱۲۳ الفضل ۱۴ نومبر ۱۹۱۵ء)