خطبات محمود (جلد 4) — Page 492
خطبات محمود جلد ۴ ۴۹۲ سال ۱۹۱۵ احمدی ہوتا ہے یہ نہ سمجھے کہ اب مجھے بے فکر ہو کر پیٹی کھول دینی چاہئے بلکہ یہ سمجھے کہ پیٹی باندھنے کا تو اب ہی ہے وقت آیا ہے کیونکہ جس دن سے وہ احمدی ہوتا ہے اسی دن سے اس کا نام فوج میں لکھا جاتا ہے اور اسی دن سے اس کی جنگ شیطان سے شروع ہو جاتی ہے۔خدا تعالیٰ کے جو سلسلے ہوتے ہیں ان کے حقیقی مبلغ افراد سلسلہ ہی ہوتے ہیں اور اصلی تبلیغ بھی انہی کے ذریعہ ہو سکتی ہے کیونکہ اس طرح ہر ایک فرد تبلیغ کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے۔ہمارے لئے اس وقت تبلیغ کر کے کامیابی حاصل کرنے کا موقع ہے۔پس ہر ایک احمدی سمجھ لے کہ میں مبلغ ہوں اور میرا فرض ہے کہ شیطان کا مقابلہ کروں۔پس خواہ کوئی احمدی امیر ہو یا غریب، تاجر ہو یا نوکر ہر حالت اور ہر حیثیت میں تبلیغ کا کام کرتا رہے۔بعض لوگوں کو اپنی بڑائی تبلیغ میں روک ہو جاتی ہے اور بعض کو اپنی غریبی اور ناداری سد راہ بن جاتی ہے۔لیکن یہ سب شیطانی دھوکا ہے جو اس طرح غافل کرنا چاہتا ہے۔اصل بات یہی ہے کہ جو کوئی بچے دین میں داخل ہوتا ہے اس کا اخلاقی اور روحانی فرض ہے کہ اس دین کو پھیلائے اور دوسروں تک بھی پہنچائے۔کیونکہ کفر زہر کی طرح ہے اور انسان کو ہلاک اور تباہ کر دیتا ہے۔جس طرح ڈاکٹر کا اخلاقی اور انسانی فرض ہے کہ اگر کسی کو زہر خوردہ دیکھے تو اس کی جان بچانے کی کوشش کرے، اسی طرح ہر ایک مسلمان جو یہ دیکھے کہ دوسرے روحانی زہر کھا کر مرنے کے قریب ہو رہے ہیں اس کا فرض ہے کہ ان کی جان بچانے کی کوشش کرے اور ان کو تبلیغ کرے۔ہماری جماعت کا ہر ایک شخص خواہ بڑا ہو یا چھوٹا، خواہ امیر ہو یا غریب، خواہ عالم ہو یا بے علم اس کا فرض ہے کہ صداقت کو پھیلائے اور باطل کو مٹائے۔کسی کو یہ خیال ہر گز نہیں کرنا چاہئے کہ کوئی تنخواہ دار مبلغ آکر تبلیغ کریں گے یا قادیان سے کوئی مولوی اور عالم ہی آکر انہیں وعظ و نصیحت کرے گا۔اس میں شک نہیں کہ بعض جگہیں ایسی ہیں جہاں کیلئے اس بات کی ضرورت ہے کوئی ایسا آدمی رکھا جائے جو اپنا سارا وقت تبلیغ میں صرف کرے ایسے آدمیوں کو کھانے پینے اور اخراجات کیلئے دینا پڑتا ہے تا کہ وہ ذریعہ معاش سے بے فکر ہو کر بکلی تبلیغ میں لگ جائیں۔ایسے آدمیوں کے اخراجات کیلئے کچھ دینا معیوب بھی نہیں۔رسول اللہ کے زمانہ میں بھی ایسے صحابی جو سرحدوں کی حفاظت کیلئے رہتے تھے انہیں بھی احبات دیئے جاتے تھے لیکن ایسے لوگوں کی تعداد کافی نہیں ہوسکتی اس لئے ہر ایک فرد