خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 491 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 491

خطبات محمود جلد ۴ ۴۹۱ سال ۱۹۱۵ء گمراہ کرنے کے لئے کھڑے نہ ہو گئے ہوں۔پس ہماری جماعت کو جہاں ایک طرف اس بات سے خوش ہونا چاہئیے کہ ہم مُنْعَم علیہ گروہ میں ہیں ، وہاں اس طرف بھی توجہ رکھنی چاہئیے کہ ہمارے ساتھ دشمن بھی لگے ہوئے ہیں جو ہمیں سیدھے راستہ سے ہٹا کر کہیں کا کہیں لے جانا چاہتے ہیں۔پس ہمیں بہت ہوشیاری سے اپنے دشمن کے مقابلہ کیلئے تیار رہنا چاہیئے۔روحانی دشمنوں کیلئے بھی اور جسمانی شیطانوں کیلئے تیار رہنا چاہئے جو انسانی شکل وصورت بن کر ہمیں نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔شیطان کے حملے کرنے کے کئی ایک طریق ہیں۔کبھی تو وہ دوست بن کر حملہ آور ہوتا ہے جیسا کہ حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ اس نے کیا اور آکر کہا کہ میں تمہیں نصیحت کرنے آیا ہوں۔خدا کے حکم کو توڑ دو تو ہمیشہ جیتے رہو گے۔انہوں نے سمجھا یہ کوئی بڑا مخلص دوست ہے اس لئے اس کے دھوکا میں آگئے۔کبھی شیطان انسان کو غافل کر کے ہلاک کرنا چاہتا ہے۔چنانچہ بہت سے لوگ ایسے ہوئے ہیں جود شمن کی دشمنی سے اس طرح تباہ و برباد نہ ہوتے جس طرح کسی بد باطن دوست کی دوستی سے ہلاک ہوئے ہیں۔مثلاً کسی نے ان کو کہہ دیا کہ ہم تمہارے پیچھے نماز پڑھ لیتے ہیں تم بھی ہماری خاطر ہمارے پیچھے نماز پڑھ لو۔تو انہوں نے اس کی خاطر نماز پڑھ لی پھر اسی طرح خاطر ہوتے ہوتے بالکل تباہ ہو گئے یعنی انہی کی طرح ہو گئے۔لیکن یہ سب شیطان کے قریب ہیں جو وہ کئی طرح سے کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ مومنوں کو اپنے فرائض بھلا دے یا کسی اور طرف لگادے تا کہ اس طرح وہ خدا کو بھول جائیں۔ہماری جماعت کے لوگوں کو اپنی توجہ اس بات کی طرف بہت رکھنی چاہئیے اور وہ ہمیشہ یادرکھیں کہ دشمن سے کبھی غافل نہ ہوں پھر شیطان جیسے دشمن جس کا منشاء ہی یہی ہے کہ انسان کو بھلا کر ہلاکت کی طرف لے کر جائے پس جب تک اس کا مقابلہ پورے زور اور قوت سے نہ کیا جائے کامیابی نہیں ہو سکتی۔زور آور اور طاقت ور لوگ اس سے مقابلہ کرتے ہی رہے لیکن یہ بھی ان کی تاک میں ہی بیٹھا رہا ہے اور ان کی نسلوں درنسلوں میں جبکہ وہ غافل اور بے پرواہ ہو گئے تو یہ دھوکا دینے میں کامیاب ہو گیا ہے۔حضرت مسیح موعود کے متعلق جو پیشگوئیاں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود سے شیطان کی آخری جنگ ہوگی۔خدا تعالیٰ کے کلام کو سمجھنے والے سمجھتے ہیں کہ اس آخری جنگ کے کچھ اور ہی معنے ہیں لیکن پھر بھی نہیں کہا جا سکتا کہ یہ کس رنگ میں پورے ہوں گے۔پس ہر ایک وہ شخص جو