خطبات محمود (جلد 4) — Page 484
خطبات محمود جلد ۴ ۴۸۴ سال ۱۹۱۵ء بھی۔پس ایک تو تبلیغ ہو جائے گی دوسرے یہ بھی فائدہ ہوگا کہ جماعت پر ترجمہ کے اخراجات کا بوجھ نہ پڑے گا۔اگر ہماری جماعت ہی ترجمہ کو خرید لے تو یہ ایسی ہی بات ہوگی جیسے کوئی شخص رو پیا اپنی ایک جیب سے نکال کر دوسری میں ڈال دے۔تو اس کی ایک جیب میں روپیہ تو پڑ جائے گا لیکن وہ شخص زیادہ مال دار نہیں ہو جائے گا۔میں جانتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ اگر اپنی جماعت کے لوگوں کو میں کہوں تو فوراً خواہ اپنی جائیدادیں ہی بیچ کر ان کو ایسا کرنا پڑے سب سیپاروں کو خرید لیں گے لیکن اس کا لازمی نتیجہ دوسرے چندوں پر پڑے گا۔بے شک چندہ غیروں سے بھی لیا جا سکتا ہے لیکن میں اسے پسند نہیں کرتا۔اوپر کا ہاتھ نچلے ہاتھ سے اچھا ہوتا ہے یوں تو بعض دفعہ ہندو بھی چندہ دے دیتے ہیں لیکن وہ اور رنگ ہے خود مانگنا مجھے نہایت نا پسند ہے۔جو لوگ مانگنے جاتے ہیں وہ دوسروں سے دبتے بھی ہیں۔لیکن ہم اپنا ایمان قرآن کریم کی چھپوائی کیلئے بیچ نہیں سکتے۔اس ترجمہ نے لوگوں کو کیا ایمان کی طرف لانا ہے جس کیلئے چھپوانے والے نے اپنا ایمان فروخت کر دیا۔پس غیروں سے چندہ ہم مانگ نہیں سکتے۔ہاں اپنا مال فروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں۔آخر فرداً فرداً احمدی تاجر اپنے اسباب دوسروں کے پاس فروخت کرتے ہی ہیں۔پس سب سے بہتر طریق یہی ہے کہ انگریزی ترجمہ جہاں تک ہو سکے ہندوستان میں ہر ایک مذہب وملت کے لوگوں کے پاس فروخت کیا جائے تاکہ ایسا نہ ہو کہ دوا طبیب کے ہی گھر میں پڑی رہے اور تا جماعت پر بھی بوجھ نہ پڑے۔اگر پانچ ہزار سیپارہ ہندوستان میں فروخت ہو جائے تو ہم ہزاروں کی تعداد میں یورپ میں لائبریریوں کو مفت بھیج سکتے ہیں جس کے ذریعہ سے کروڑوں انسانوں کو ہدایت ہو سکتی ہے اور اگلے سیپارہ کے چھپوانے کا خرچ بھی نکل سکتا ہے۔اس مدعا کو پورا کرنے کیلئے میرا خیال ہے کہ پچاس یا سومخلص احمدی فرداً فرداً اور اسی قدر جماعتیں اپنے آپ کو پیش کریں جو اپنے اپنے شہر میں سو یا پچاس نسخہ ہر ایک مذہب وملت کے لوگوں میں کوشش کر کے فروخت کریں۔بعض شہروں کے لوگ اگر چاہیں تو سینکڑوں کی تعداد میں فروخت کر سکتے ہیں۔مثلاً لا ہور ہی ہے وہاں ہزار ہا تعلیم یافتہ لوگ موجود ہیں جو حق کے جو یاں ہیں اور ان کے دلوں میں تعصب نہیں۔جو شخص اس معاملہ میں کوشش کرے گا اسے قرآن کریم کی اشاعت کا ایک بہت بڑا ثواب ملے گا اور اس نے کے ذریعہ سے جو لوگ ہدایت پائیں گے یا جن لوگوں کے دل سے تعصب دور ہوگا اور ان کے دلوں