خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 475 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 475

خطبات محمود جلد ۴ ۴۷۵ سال ۱۹۱۵ء تائید کر رہا ہے تو اس پر جس قدر خوشی میں مناؤں میرا حق ہے، کیونکہ اس سے میری نہیں بلکہ مسیح موعود کی بلکہ آنحضرت سلایا یتیم بلکہ خدا کے کلام کی صداقت ظاہر ہوتی ہے۔خدا جو کچھ دکھا رہا ہے وہ سلسلہ کے بڑھانے کیلئے دکھا رہا ہے۔پس میں کا فرنعمت ہوں گا اگر اس نعمت کو دنیا پر ظاہر نہ کروں اور اسے لوگوں سے چھپاؤں۔میں بیشک مامور نہیں مگر مامور کا خادم، مامور کا غلام ضرور ہوں۔میرا مولیٰ میرے لئے نہیں بلکہ اس نبی کیلئے کر رہا ہے جو کچھ کر رہا ہے۔وہ تو میرے ذریعے سے کسی نشان کے ظاہر ہونے پر اظہار تعجب کرتے ہیں۔میں نے تو دیکھا ہے کہ ایک غریب سے غریب احمدی ہے جو قرآن شریف بھی نہیں پڑھ سکتا جب لوگوں نے اسے دکھ دیا اور بے حد ستایا تو وہ خدا کے حضور چلایا تو خدا نے اس کے دشمنوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے۔اب کیا وہ مامور تھا ؟ مامور تو نہیں تھا مگر خدا کو اپنے سلسلہ کی صداقت کا پاس تھا اس نے نشان دکھایا۔وہ ماموروں کے ساتھ ماموروں کی حیثیت کے مطابق سلوک کرتا ہے اور میرے ساتھ میری حیثیت کے مطابق۔غیر مامور ہونے کے یہ معنے نہیں کہ خدا تعالیٰ حق کے مؤید کی کبھی تائید نہ کرے۔ان ماموروں کی تائید بڑے پیمانہ پر ہوتی ہے، پھر اس کے بعد خدا ہر مومن کی تائید کرتا ہے۔میرے ہاتھ میں خدا نے سلسلہ کی باگ دی تو میری تائید کیوں نہ کرے۔میری صداقت میں جو درحقیقت سلسلہ کے بانی کی صداقت ہے ) نشان کیوں نہ دکھائے۔میں اگر یہ دعوی کروں کہ میری ایسی تائید ہوتی ہے جیسی نبیوں کی تب کچھ اعتراض ہو سکتا ہے۔میرا دعویٰ تو یہ ہے کہ خدا میری تائید میں وہ نشانات دکھاتا ہے جو ایک مومن کیلئے اس کی برگزیدہ جماعت کے منتظم و امیر کیلئے دکھایا کرتا ہے۔پس اس زمانے میں اس جماعت کی ضروریات کے پورا کرنے کیلئے جس قدر تائید کی ضرورت ہے وہ میری ضرور فرمائے گا تا ثابت ہو کہ یہ جماعت ایک مامور کی جماعت ہے۔خیران اعتراضوں سے ہمیں یہ خوشی ہے کہ یہ وہی اعتراض ہیں جو پہلے منکروں نے آنحضرت ملا کہ تم پر پھر حضرت مسیح موعود پر کئے۔ہمیں ان راستبازوں سے مشابہت ہوگئی اور ہمارے مخالفوں کو ان راستبازوں کے مخالفوں سے۔یہ کہنا کہ خدا نے لَعْنَتُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ کہا اور مخالفین تباہ نہ ہوئے نہایت نادانی ہے کیونکہ رسول اللہ صل اسلام کے ذریعے فَنَجْعَل لَّعْنَتُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ کا اعلا بتا تا ہے کہ اس نشان کے ذریعہ خدا تعالیٰ آپ کی وجاہت ثابت کرنا چاہتا ہے، جبھی آر سے یہ فقرہ نکلوایا۔خدا کی سنت ہے جب مقابلہ کیلئے حق و باطل کے دو فریق باہم متقابل ہوں تو