خطبات محمود (جلد 4) — Page 36
خطبات محمود جلد ۴ ۳۶ سال ۱۹۱۴ء ہیں اور پھر دونوں فریق سے صلح رکھنے کیلئے ان کو طرح طرح کے حیلے کرنے پڑتے ہیں۔مخالفوں کے پاس گئے تو مسلمانوں کی باتیں ان کو بتلاتے رہے اور جب مسلمانوں کے پاس آئے تو مخالفوں کی باتیں ان کو بتانی ہے پڑتی ہیں۔اور اگر وہ ایسانہ کریں اور ہر ایک فریق کے سامنے اس کی خیر خواہی کا اقرار نہ کریں تو صلح کس طرح رکھ سکیں اس لئے ان کو ایک فریق کی بات ضرور دوسرے فریق کے سامنے ظاہر کرنی پڑتی ہے جو دونوں گروہوں سے تعلق رکھنا چاہے۔ضرور ہے کہ وہ آپس میں فساد بھی ڈلوا دے اور آخر کار پھر ان کو اس بات کا نتیجہ بھگتنا پڑتا ہے۔ان کو بیعت کیلئے کہا جاوے تو کہتے ہیں یہ احمق ہیں ہم جب مانتے ہیں تو بیعت کرنے کی کیا ضرورت ہے صرف ماننا ہی کافی ہے۔سُفَهَاء سَفة عربی میں بکھیرنے کو کہتے ہیں جو چیز بکھر جائے وہ کمزور ہو جاتی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ یہ سفیہ ہیں ، انہوں نے اپنے مال ، اپنے گھر بار اور رشتہ داروں کو چھوڑ دیا۔ہم نے دیکھوا اپنا مال بچا یا ہوا ہے۔یہ سُفَهَاء ہیں، دیکھو انہوں نے اپنے مالوں کی حفاظت نہ کی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہی سُفَهَاء ہیں اور یہی کمزور ہیں۔مومن بڑھ جاویں گے اور کامیاب ہوں گے۔یہاں قرآن کریم نے صاف صاف فرما دیا ہے کہ وہ مومن نہیں ہیں بلکہ کفار میں شامل ہیں وَإِذَا خَلَوْا إلى شَيطِي م س دیکھو شیاطین کی نسبت ان کی طرف کی وہ باتیں بنا بنا کر ان کو خوش رکھنا چاہتے ہیں۔اللہ تعالی فرماتا ہے اللهُ يَسْتَهْزِئُ بہم ہے عربی کا قاعدہ ہے کہ کسی کے جرم اور اس جرم کی سزا کا ایک ہی لفظ ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کی ہنسی کی ان کو خوب سزا دے گا اور انہیں ان کی شرارت کا مزا چکھائے گا اور ان کو برا بدلہ ملے گا، ان کی تجارت بڑی ہے وہ ہدایت یافتہ نہ ہوئے۔یہ گروہ منافقین کا ہے۔اس زمانہ میں بھی ایک ایسا گروہ پیدا ہو گیا ہے جو احمدیوں کے پاس آتے ہیں تو ان کے پاس آکر حضرت صاحب کی تعریف کرتے ہیں۔وہ بیعت نہیں کرتے کیونکہ انہوں نے بیعت کو معمولی سمجھ رکھا ہے۔یہ کافر ہیں ان کو خدا پر یقین نہیں اور اس کی طاقتوں پر ایمان نہیں ہے۔اگر ان کو خدا پر ایمان ہوتا تو یہ ایسا بھی نہ کرتے۔یہ منافق ہیں مومن نہیں ہیں ان کو سخت سزا ملے گی۔اللہ سے زیادہ سچا کوئی نہیں۔ایک اخبار والے کو ہمارے احمدیوں میں سے ایک نے خط لکھا کہ مجھے بھی اپنی انجمن میں شامل کرلو۔تو اس نے ان کو جواب دیا کہ تم لوگ پہلے ہی بڑا کام کر رہے ہو تم سے بڑھ کر کوئی خدمت دین نہیں