خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 438 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 438

خطبات محمود جلد ۴ ۴۳۸ سال ۱۹۱۵ یہ سمجھ لے کہ اب میرا کام ختم ہو گیا ہے اس وقت اس کے افراد جو بمنزلہ ڈاکٹر کے ہوتے ہیں مریض ہو جاتے ہیں کیونکہ یہ ایسا مرض ہے کہ جب ڈاکٹر یہ سمجھ لیں کہ اب کوئی مریض نہیں تو وہی مرض ڈاکٹروں کو لگ جاتا ہے۔پھر آسمان سے ڈاکٹر آکر ایک مدرسہ قائم کرتا ہے اور اس میں ایسے ڈاکٹر تیار کرتا ہے جو دنیا میں مریضوں کے علاج میں لگ جاتے ہیں۔اس پر صدیوں کی صدیاں گزر جاتی ہیں اور وہ فارغ نہیں ہوتے حتی کہ بعض لوگ علم ڈاکٹری کو بھول جاتے ہیں اس لئے وہی مریض بن جاتے ہیں اور ایسے مریض کہ لوگ ان پر ہنستے ہیں جیسے آج کل یورپ کے لوگ مسلمانوں پر ہنس رہے ہیں۔غرض یہ مقابلہ کوئی چھوٹا سا مقابلہ نہیں بلکہ بہت بڑی قربانی چاہتا ہے۔جب کوئی انسان اس کو ہاتھ میں لے تو سمجھ لے کہ مرتے دم تک ایسا کوئی وقت نہیں آئے گا کہ میں اس سے فارغ ہو سکوں۔پس ہماری جماعت کیلئے جس نے یہ کام اپنے ہاتھ میں لیا ہے بہت بڑی ہمت عملی طاقت اور استقلال کی ضرورت ہے اور جب تک ہم خاص جوش اور استقلال سے کام نہ کریں گے کامیابی کہاں ہوسکتی ہے۔ہم سے پہلی جماعتوں نے یہ کام کیا اور ایسا کیا کہ دن رات ایک کر دیا تب جا کر انہیں کامیابی ہوئی۔یہ آیتیں جو میں نے پڑھی ہیں ان میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے کچھ کام بیان فرمائے ہیں۔ایک طرف تو یہ فرمایا کہ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وہ غیب پر ایمان لاتے ہیں یعنی جو باتیں لوگوں کی نظروں سے غائب اور دنیا سے پوشیدہ ہوتی ہیں ان پر ان کو ایمان اور یقین ہو جاتا ہے۔جس طرح کوئی ڈاکٹر خوردبین سے بار یک چیزوں کو دیکھ لیتا ہے اسی طرح وہ چیزیں جو لوگوں سے پوشیدہ ہوتی ہیں مثلاً ہستی باری تعالی ، ملائکہ متقی لوگ ان سے اچھی طرح آگاہ ہو جاتے ہیں اور انہیں ان کے متعلق تسلی حاصل ہو جاتی ہے۔نیز وہ باتیں جو لوگوں پر پوشیدہ ہوتی ہیں ان پر اللہ تعالیٰ ظاہر کر دیتا ہے جن پر انہیں ایمان حاصل ہو جاتا ہے۔کامل ایمان کا حاصل ہونا بڑی خوبی کی بات ہے۔یہ ہر ایک کو کہاں نصیب ہوتا ہے۔مثلاً خدا کو ماننے والے لاکھوں اور کروڑوں ہیں لیکن اگر خدا کی ہستی کے متعلق ہے کریدا جائے تو اکثر دہریے نکلیں گے اور بہت سے ایسے ہوں گے جن میں ایمان ہی نہیں۔پھر فرماتا ب وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وہ ایک دو وقت کی نمازیں نہیں پڑھتے بلکہ ہر وقت اللہ کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں۔جب ان کی نظر اتنی وسیع ہو جاتی ہے کہ غیب پر انہیں ایمان حاصل ہو جاتا ہے تو نماز میں قائم کرتے ہیں اور ان پر دوام اختیار کرتے ہیں۔”اقامت کسی چیز کو قائم کرنا اور اس پر دائم رہنا ہے