خطبات محمود (جلد 4) — Page 435
خطبات محمود جلد ۴ ۴۳۵ سال ۱۹۱۵ء کرتے یہی حال سچی معرفت رکھنے والوں کا ہوتا ہے۔وہ چونکہ خدا تعالیٰ سے خاص تعلق رکھتے ہیں اس لئے کوئی مشکل ان کے راستہ میں حائل نہیں ہو سکتی، کوئی تکلیف انہیں رنجیدہ نہیں کر سکتی ان کیلئے دین کی کامیابی سب سے بڑھ کر خوشی ہوتی ہے۔یہی حالت مباحثہ میں ان لوگوں کی نظر آتی ہے۔مگر ان دونوں جماعتوں میں بہت بڑا فرق ہے اور وہ یہ کہ انبیاء کی تربیت یافتہ جماعت کے لوگ گھروں میں جاتے ہیں ہوتے ہیں، جاگتے ہیں، چلتے پھرتے ہیں، اپنے تمام کاروبار کرتے ہیں لیکن ان کی ہر حالت اور ہر وقت میں جوش اور چستی نمایاں ہوتی ہے اور جو دوسرے ہیں ان کا جوش صرف مباحثہ کے وقت تک ہی محدود ہوتا ہے ہے۔گھر جا کر وہ دنیا کے کاموں میں لگ جاتے ہیں اور دین کا خیال بھی نہیں رہتا۔اسی طرح بہت سے بخیل جن کے ہاتھوں سے ایک پیسہ بھی نہیں نکلتا بڑی بڑی رقمیں دے ڈالتے ہیں مگر سخی نہیں کہلا سکتے۔کیوں؟ اس لئے کہ کسی خاص وجہ یا خاص منظر یا خاص بات سے متاثر ہو کر ان کا بخل دب جاتا ہے اس لئے وہ کچھ دے دیتے ہیں۔اور یہ بات بیرونی اثرات سے ان میں پید اہوتی ہے نہ کہ ان کی طبیعت سے نکلتی ہے لیکن ایک سخی کو مجلس کے اثرات یا کسی منظر کی کیفیات یا واعظ کا وعظ یا کسی کی شان و شوکت دینے کیلئے مجبور نہیں کرتی بلکہ اس کی فطرت اسے مجبور کرتی ہے کہ کسی غریب کی مدد کی جائے۔پھر کسی خاص وقت نہیں بلکہ تنگی و فراخی ، عسر یسر ہر حال میں اس کی سخاوت ظاہر ہوتی رہتی ہے۔پس اصل بات جو دنیا میں کسی کو کامیاب کرتی ہے وہ ایک صفت کا اپنے اندر ہمیشہ کیلئے قائم کر لینا ہوتا ہے نہ کہ ایک وقت کیلئے اس کا حاصل کر لینا۔کیونکہ وقتی جوش تو شریر سے شریر انسان کو بھی اپنے مذہب کی حمایت میں آجاتا ہے۔چنانچہ اخباروں میں ایسے واقعات پڑھے جاتے ہیں۔مثلاً دیا نند کالج اور اسلامیہ کالج کے لڑکوں میں میچ ہوا تو موچی دروازہ کے غنڈے لٹھ لے کر آگئے کہ مسلمان اور آریوں کا مقابلہ ہے ہمیں مسلمانوں کی ہمدردی کرنی چاہئیے۔اس نظارہ کو دیکھ کر نہیں کہہ سکتے کہ ان میں اسلامی جوش ہے۔کیونکہ ایک نظارہ کی وجہ سے ان میں وقتی جوش نظر آتا ہے اور حقیقت میں کچھ بھی نہیں۔اصل ہمت اور جوش سے کام کرنے والا وہ انسان ہوتا ہے جو بھی تھکتا نہیں خواہ کتنا ہی مشکل کام اسے پیش آئے ، اور کتنا ہی لمبا عرصہ اس کے کرنے میں لگے۔لیکن وہ جو ایک وقت خواہ کتنا ہی جوش دکھائے اس کا جوش جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا ہے اس لئے کبھی اس قسم کا انسان کامیاب نہیں ہو سکتا۔جتنے