خطبات محمود (جلد 4) — Page 425
خطبات محمود جلد ۴ ۴۲۵ (۸۱) دینی عزت اسی کو حاصل ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ کی خاطر عاجزی اختیار کرے (فرموده ۲۰۔اگست ۱۹۱۵ء) سال ۱۹۱۵ تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے سورۃ الکوثر کی تلاوت کی:۔إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرُ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الأَبْتَرُات پھر فرمایا:۔عزت اور بڑائی حاصل کرنے کیلئے لوگوں نے بہت سی تدبیریں اختیار کی ہیں اور بہت سی تجویزیں سوچتے رہتے ہیں۔ہزاروں رستے ، ہزاروں ایجادیں اور ہزاروں تدبیریں لوگوں نے عزت حاصل کرنے کیلئے اختیار کر رکھی ہیں اور ہر روز نئے سے نئے پہلو سو چتے رہتے ہیں لیکن لوگوں نے جہاں عزت حاصل کرنے کے مختلف پہلو سوچے ہیں وہاں ایک بہت بڑا دھوکا بھی کھایا ہے جو ہمیشہ سے لگتا آیا ہے اور اس زمانہ میں لگ رہا ہے وہ یہ ہے کہ بعض ایسے لوگ جن کا دین سے تعلق ہوتا ہے یا یوں کہنا چاہئیے کہ جن کا دین کے ساتھ کمزور تعلق ہوتا ہے وہ دین اور دنیا کی عزت کو ایک سا سمجھ کر دین کی عزت حاصل کرنے کیلئے انہی تدبیروں سے کام لیتے ہیں جن سے دنیا کی عزت کا حصول سمجھتے ہیں لیکن جہاں نے مادی عالم کا روحانی عالم سے اختلاف ہے وہاں دنیاوی اور دینی عزتوں میں بھی بڑا فرق ہے۔دنیا کی عزتیں محنت، کوشش اور تدبیروں سے ملتی ہیں اور جتنا کوئی زیادہ کوشش کرے اتنی ہی زیادہ ملتی ہیں۔لیکن دینی عزت حاصل کرنے کا طریق اس کے خلاف ہے اس کیلئے جتنی کوئی کوشش اور تدبیر کرتا