خطبات محمود (جلد 4) — Page 382
خطبات محمود جلد ۴ ۳۸۲ سال ۱۹۱۵ء گواب نکالنے والے تو یہ نکالتے ہیں کہ تمام دنیا کیلئے ہے اور اس تعلیم کو عالمگیر قرار دیتے ہیں مگر حضرت مسیح خود ہی کہتے ہیں کبھی نہیں ہوتا کہ ایک عورت اپنے بچہ سے روٹی چھین کر غیر کو دے دے۔میں اپنے موتی سؤروں کے آگے کیونکر ڈالوں اے یعنی بنی اسرائیل کے سوا باقی سب لوگ غیر ہیں، اس لئے وہ میری تبلیغ کے مستحق نہیں ہیں۔یہ تو وہ مذاہب ہیں جو اسلام سے بہت قریب کے ہیں اور جو ان سے پہلے کے ہیں ان کی تعلیموں کے محدود ہونے کا اسی سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ وہ تبت سے پرے کوئی ملک ہی نہیں سمجھتے اور ان کی رو سے کابل کے پرے انسان نہیں بلکہ جنات رہتے ہیں۔بھلا ایسے مذاہب کے ماننے والی قوم ساری دنیا کو تبلیغ کرسکتی ہے؟ ہر گز نہیں اور ایسا مذ ہب عالمگیر مذہب کس طرح ہو سکتا ہے۔ہاں اسلام آیا اور صرف اسلام ہی ایسا مذہب آیا جس نے اپنی تعلیم کو وسیع کر کے تمام دنیا کے داخل ہونے کے لئے دروازے کھول دیئے۔چونکہ اسلام کی تعلیم تمام قوموں کیلئے تھی اور پھر کسی خاص زمانہ کیلئے نہ تھی اس لئے ضروری تھا کہ اس کے ماننے والوں یعنی مسلمانوں کو اس کی تبلیغ کی طرف توجہ دلائی جاتی تاکہ وہ اس کو اپنے گھر میں ہی بند نہ رکھیں بلکہ ساری دنیا پر پھیلا دیں۔اس پر قرآن شریف میں بہت زور دیا گیا ہے ایک جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلتَكُن مِّنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ) اے مسلمانو! تم میں سے ایک ایسی جماعت ہو جو امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کرے اور لوگوں کو خیر کی طرف بلائے۔پھر فرما یا كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ ستم ہی سب سے بہتر قوم ہو جو کہ لوگوں کے نفع کیلئے پیدا کئے گئے ہو یعنی ہر مومن کا یہ فرض ہے کہ اس تعلیم کو جو قرآن کے ذریعہ اس کو پہنچی ہے دوسروں تک پہنچائے کیونکہ اس مذہب کی غرض ہی یہ ہے کہ دنیا میں امن قائم کرے اور تمام بنی نوع کی خادم ایک جماعت پیدا کر دے۔پس ہر ایک مومن کا فرض ہے کہ خواہ تاجر ہو یا کسان، خواہ پیشہ ور ہو، خواہ دکاندار ، خواہ مدرسہ کا مدرس ہو، خواہ کالج کا پروفیسر ، خواہ گورنمنٹ کا ملازم ، خواہ کوئی اور کام کرنے والا جبکہ وہ مسلمان کہلاتا ہے تو اس کا فرض ہے کہ لوگوں کو وہ پاک تعلیم پہنچائے جو آنحضرت ملی یہ تم کی معرفت اس کو نصیب ہوئی ہے کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے كُنتُم خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاس کہ تمہارے پیدا کرنے کی غرض یہ ہے کہ لوگوں کو تم سے فائدہ ہو۔