خطبات محمود (جلد 4) — Page 345
خطبات محمود جلد ۴ ۳۴۵ سال ۱۹۱۵ء تو یہ حال الگ رہا ، ہمارے آقا حضرت محمد صلی ا یہ تم پر سب کچھ روشن نہیں تھا۔اور نہ آپ خود بخود کچھ پردہ غیب سے معلوم کر سکتے تھے۔پھر ہم کیا ہیں جو استاد کے پاس ہوتا ہے وہی شاگردوں میں بھی آتا ہے جب ہمارے استاد کے پاس یہ علم نہیں تھا تو ہم میں کہاں سے آتا۔ہم نے وہی کچھ سیکھا ہے جو آنحضرت صلی شی پہ ستم کے پاس تھا۔پس جماعت کو چاہیئے کہ بہت احتیاط سے الفاظ کو منہ سے نکالا کرے اور اپنے خیالات کو ایسا محفوظ رکھے کہ شرک سے بالکل بری ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم ہر قسم کی بدی معاف کر دیں گے مگر شرک معاف نہیں کریں گے۔پس ہر ایک مومن کو چاہیئے کہ ایسے الفاظ بولے جن میں خدا کی حمد، تعریف اور ستائش پائی جائے۔خدا تعالیٰ ہماری جماعت کو اس بات کی توفیق دے کہ اللہ کو اللہ اور مخلوق کو مخلوق سمجھے اور کوئی بدی خدا کی طرف منسوب نہ کرے۔البقرة: ۲۵۶ (الفضل ۱۳ ، ۱۶ مئی ۱۹۱۵ء )