خطبات محمود (جلد 4) — Page 321
خطبات محمود جلد ۴ ۳۲۱ سال ۱۹۱۵ء یہ بہت ضروری ہے کہ متحدہ کوشش کرو۔گو اس میں شک نہیں کہ جو امیدیں تمہیں ہیں وہ تمہارے دشمنوں کو نہیں مگر یہ امیدیں تب ہی پوری ہو سکتی ہیں جبکہ تم خدا کیلئے قربانیاں کرو اور اس کے رستے میں کسی بات کی پرواہ نہ کرو۔بے شک تمہاری جماعت کمزور ہے مگر یاد رکھو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَكَانَ اللهُ عَلِيمًا حكيما۔ہم جاننے والے اور حکمت والے ہیں۔ہم نے یونہی تمہارے سپر د یہ کام نہیں کر دیا کہ تم اس کو کر ہی نہیں سکتے بلکہ جب ہم نے یہ دیکھا کہ تیس کروڑ انسان جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں وہ اس کام کو کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے تو ہم نے ایک انسان کو کھڑا کر دیا جس کی قائم کردہ تم ایک جماعت ہو اس لئے اب تم اس کام کے کرنے کے ذمہ دار ہو۔ایک مالک مکان جب دیکھتا ہے کہ مکان کی فلاں دیوار کمزور ہوگئی ہے اور بوجھ کے اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتی تو وہ اسے گرا کر دوسری اس کی جگہ بنا دیتا ہے۔اور یہ کام معمولی سی عقل والا انسان بھی کرنا ضروری سمجھتا ہے تو اللہ تو علیم اور حکیم ہے اگر تم سے ستی ہوگی تو یہ نہیں کہ تم یہ کام نہیں کر سکتے۔کر سکتے تو ہو لیکن کرتے نہیں کیونکہ اگر تم نہ کر سکتے تو خدا تمہیں کبھی اپنے مامور کی جماعت قرار نہ دیتا۔پس یہ خوف اور فکر کا مقام ہے اور اس وقت ضرورت ہے کہ تم اس کام کے کرنے میں کوشش اور محنت سے کام لو۔میں نے اس کام کیلئے ترقی اسلام کی ایک انجمن بنائی ہے اور اس کے سپرد یہ کام کیا ہے۔اس انجمن کے بہت سے کام شروع ہو گئے ہوئے ہیں۔ولایت اور ماریشس میں مبلغ کام کر رہے ہیں۔قرآن شریف کا انگریزی اور اردو ترجمہ چھاپنے کا انتظام کیا جا رہا ہے۔کتابیں اور اشتہارات اردو اور انگریزی میں چھاپے جاتے ہیں۔ہندوستان میں بھی تبلیغ کا کام شروع ہے غرضیکہ کئی کام جاری ہیں اور ساری دنیا کا مقابلہ اس چھوٹے سے گھر نے کرنا ہے۔اب تم قیاس کرو کہ تمہیں کس قدر قربانیوں کی ضرورت ہے۔ایک بڑا شمشیر زن آرام بھی کر سکتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ جب میں اُٹھوں گا اسی وقت دشمن کا سرتن سے جدا کر دوں گا۔مگر جو انسان کمزور اور نا تواں ہوا سے تو ہر وقت ہوشیار رہنا چاہئیے۔صحابہ کے مقابلہ میں ہم میں کمزوریاں ہیں جب صحابہ کو اتنی اتنی بڑی قربانیاں کرنی پڑیں تو ہمیں تو بہت ہی تیاری کرنے کی ضرورت ہے۔اگر ایک کمزور اور ایک طاقتور انسان نے سفر کو جانا ہو تو کمزور طاقتور کی نسبت زیادہ تیاری کرے گا۔پس ہمار ا ضعف اور کمزوری تو اور بھی زیادہ تیاری کو چاہتی ہے اس لئے