خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 312

خطبات محمود جلد ۴ ۳۱۲ سال ۱۹۱۵ء کیا۔جب انہوں نے قبول ہی نہیں کیا تو پھر انہیں کس طرح فائدہ ہو سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آنے کا بے فائدہ ہونا تو تب ثابت ہو جبکہ مسلمان انہیں قبول کر لیں اور پھر ذلیل ہوں لیکن انہوں نے قبول ہی نہیں کیا بلکہ رد کر دیا ہے تو پھر ان کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔قرآن شریف کا بھی یہی حال ہے اور ہر ایک خوبی کا یہی حال ہوتا ہے جو کوئی اسے قبول کرتا ہے اسے فائدہ پہنچتا ہے اور جور ڈ کرتا ہے اس کو نہیں پہنچتا۔یہی قرآن ان مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے جو ذلیل و خوار ہورہے ہیں اور اس لئے کہ یہ ان کے پاس نسخہ ہے لیکن وہ اسے استعمال نہیں کرتے۔جب وہ اسے استعمال ہی نہیں کرتے تو پھر قرآن شریف کا کیا قصور ہے؟ بہت نادان ہے وہ انسان جو یہ خیال کرے کہ خدا تعالیٰ نے بیماریوں اور کمزوریوں کا کوئی علاج نہیں کیا۔اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کیلئے علاج مقرر کیا ہوا ہے۔یہ انسان کی کمزوری ہے کہ وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھاتا۔پس فائدہ اٹھانا یا نہ اٹھانا انسان کا کام ہے سامان خدا تعالیٰ نے مہیا کر دیئے ہوئے ہیں۔روحانی دیکھو تو وہ بھی کسی خاص قوم یا کسی خاص ملک تک محدود نہیں۔اب اگر کوئی فائدہ نہ اٹھائے تو یہ اس کا اپنا قصور ہے۔ہماری جماعت کو چاہئیے کہ اس خزانہ سے یعنی قرآن شریف سے جس قدر بھی فائدہ اٹھا سکے اٹھائے۔خدا تعالیٰ کا ہم پر بڑا فضل اور احسان ہے کہ اس نے ہمیں زندہ قرآن دیا ہے اور قرآن کی وہ آیتیں جو گونگی، بے مطلب اور بے معنی معلوم ہوتی تھیں ان کو زندہ کر کے دکھا دیا ہے اور بتا دیا ہے کہ قرآن کا کوئی حصہ ایسا نہیں جو بے کار ہو بلکہ ہمیشہ زندہ اور کارآمد ہے۔پس اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے قرآن شریف کو ہمارے لئے زندہ کتاب ثابت کر دیا ہے اس لئے ہمارے لئے بہت ضروری ہے کہ اس سے فائدہ اٹھائیں۔خدا تعالیٰ ہمیں قرآن شریف کے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔ل الفاتحه : ۲ الحشر : ٢٥ (الفضل ۲۲۔اپریل ۱۹۱۵ء) سنن ابی داود کتاب السنة باب في المسئلة في القبر و عذاب القبر