خطبات محمود (جلد 4) — Page 305
خطبات محمود جلد ۴ ۳۰۵ سال ۱۹۱۵ء نہیں۔اور وہی طبیب جن کے دروازے پر ہاتھی جھوما کرتے تھے ، اب کھانے کیلئے مارے مارے ، مارے پھرتے ہیں۔تو آج انسان کوئی تدبیر نکالتا ہے، کل اس سے بڑھ کر تد بیر نکل کر پہلی کو بے کار کر دیتی ہے۔یہی حال مصیبتوں اور تکلیفوں کا ہے۔اگر ایک انسان کسی کی دیوار میں سوراخ کر دے اور وہ دیوار والا اس سوراخ کو بند کر دے تو وہ دوسری جگہ سے کر دے گا اس لئے اس کی شرارت سے بچنے کا یہی ذریعہ ہے کہ اس شخص کو پولیس مین کے حوالہ کیا جاوے تا کہ کسی اور جگہ سے اس کے سوراخ کرنے کا خطرہ نہ رہے۔تو ایک ایک چیز جو انسان حاصل کرتا ہے اور ایک ایک رستہ جس سے وہ دکھوں اور تکلیفوں سے محفوظ رہنا چاہتا ہے اس کیلئے کامل سکھ اور کامل راحت کا باعث نہیں ہوسکتا۔اس کیلئے ایک ہی طریق ہے اور وہ یہ کہ جس کے قبضہ جس کے حکم اور جس کے اشارے میں سکھ اور دکھ ہے اس سے انسان دوستی پیدا کر لے پھر اس کیلئے کوئی ڈرکوئی خوف اور کوئی غم نہیں ہوسکتا۔وہ انسان جو یہ کوشش کرے کہ مجھے ایک پیسٹل جائے اگر وہ اس سے ملنے کی کوشش کرے جو پیسوں کے بنانے والا ہے اور وہ اسے مل بھی جائے تو پھر اسے کیا پر واہ رہتی ہے۔پس حقیقی آرام اور آسائش حاصل کرنے کا صرف یہی ایک طریقہ ہے اور وہ یہ کہ انسان خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کر لے۔جب اس سے تعلق پیدا کر لے گا تو پھر سب کچھ اپنے آپ ہی اس کا مطیع اور فرمانبردار ہو جائے گا۔مجھے یہ قصہ ہمیشہ یاد آ کر مزا دیا کرتا ہے کہ ایک شخص بادشاہ کے پاس یہ شکایت لے کر گیا کہ میں نے شہر کے قاضی صاحب کے پاس روپے بطور امانت رکھے تھے لیکن اب مانگنے پر دیتے نہیں۔میں نے انہیں معتبر سمجھ کر کوئی گواہ بھی نہیں رکھا تھا۔بادشاہ نے سوچا کہ اگر میں قاضی صاحب کو یہاں بلوا کر پوچھوں گا تو وہ انکار کر دیں گے اور ان کے روپے لینے کا کوئی ثبوت ہے نہیں ،اس لئے مشکل ہوگا۔قاضی صاحب سے کسی تدبیر سے روپے وصول کرنے چاہئیں۔بادشاہ نے تدبیریہ کی کہ اس شخص کو کہا کہ کل جب میرا جلوس بازار سے نکلے تو تم قاضی صاحب کے مکان کے قریب بیٹھ جانا۔میں وہاں آکر تم سے باتیں کروں گا اور تم نے گھبرانا نہیں۔دوسرے دن جب بادشاہ کا جلوس نکلا تو قاضی صاحب کے مکان کے قریب جا کر بادشاہ نے اس سے کچھ باتیں کیں اور پھر چلا گیا۔بادشاہ کے جانے کے بعد قاضی صاحب اُسے کہنے لگے۔بھئی تم نے کل کچھ امانت کا ذکر کیا تھا۔کچھ نشان بتاؤ تا کہ میں اس کی نسبت سوچ کر بتا سکوں۔اس نے وہی نشان جو پہلے دن بتائے تھے،