خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 247

خطبات محمود جلد ۴ ۲۴۷ سال ۱۹۱۴ء کرے۔اس لئے جب کوئی مخول کرے گا تو اسی سے کرے گا جس کو وہ اپنے سے کمتر سمجھے گا۔اور یہ اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ جس سے کوئی تمسخر کرتا ہے اس کو اپنے سے چھوٹا سمجھتا ہے اور یہ اس کے تکبر اور خود پسندی کی علامت ہے۔یا وہ انسان کسی سے تمسخر کرتا ہے جو صاف اور سیدھی بات کرنے کی جرات نہیں رکھتا جس کا انجام نفاق ہوتا ہے۔لوگوں میں ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی ہنسی اور محول کی عادت ہے پھیلتی جاتی ہے لیکن جو انسان اس عادت بد کو نہیں چھوڑتا اسے بہت برا خمیازہ اٹھانا پڑتا ہے۔جو انسان تمسخر کرتا ہے گوابتداء میں اس میں تکبر اور بڑائی نہ بھی ہو تو ہوتے ہوتے وہ دوسروں کو حقیر سمجھنے لگ جاتا ہے یا اس میں سے حق گوئی کی جرات ماری جاتی ہے اور اس میں نفاق پیدا ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم کیوں کسی سے نہی اور مخول کرتے ہو۔تمہیں کیا معلوم ہے کہ خدا کے نزدیک کون بڑا اور کون چھوٹا ہے۔در حقیقت بڑا تو وہی ہے جو اللہ کے نزدیک بڑا ہے اور چھوٹا وہی ہے جو اللہ کے حضور چھوٹا ہے۔اگر کوئی انسان عمدہ کھانا کھا رہا ہو اور اس نے بہت اعلیٰ پوشاک پہنی ہوئی ہو، بڑا خوبصورت ہو لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ ذلیل ہو تو وہ ذلیل ہی ہوگا۔اور خواہ کوئی ساری دنیا کا بادشاہ بھی ہو تو بھی معزز نہیں ہو سکتا۔وہ انسان جس کے سر پر تلوار لٹک رہی ہو کیا اس کو کوئی عیش و آرام بھلا معلوم ہوتا ہے، ہر گز نہیں۔اسی طرح اگر کوئی ساری دنیا پر بھی حکومت کرتا ہو لیکن اسے یہ خیال ہو کہ مرنے کے بعد مجھ سے بدترین معاملہ کیا جائے گا اور مجھے ایک ایسے دربار میں ذلیل اور رسوا کیا جائے گا جہاں میرے باپ دادا اور بیٹے بیٹیاں سب رشتہ دار موجود ہوں گے۔اور میرے اس ناز و نعمت میں پلے ہوئے جسم کو آگ میں ڈالا جائے گا تو ایسے شخص کی زندگی کہاں سکھ اور آرام کی زندگی ہو سکتی ہے۔ایک شخص جس کو صلیب پر لٹکا یا جانا ہو اس کو اگر عمدہ سے عمدہ کھانا لا کر دیا جائے اور اعلیٰ سے اعلیٰ پوشاک پہنائی جائے تو اسے کہاں مزا آسکتا ہے۔کیوں ؟ وہ تو جانتا ہے کہ یہ کھانا ابھی مجھے ہضم نہیں ہونے پائے گا کہ میری جان نکل جائے گی۔اور یہ کپڑے ابھی میلے بھی نہ ہو سکیں گے کہ میری روح جسم سے جدا ہو جائے گی۔اسی طرح وہ انسان جس کی زندگی بدکاری میں گزرتی ہے اور وہ جانتا ہے کہ مجھے مرنے کے بعد سخت سزا ملے گی اس کی بھی ایسی ہی زندگی ہے جس کے سر پر تلوار کھینچی ہوئی ہو اور وہ خوراک کھا رہا ہو اور پوشاک پہن رہا ہو، اسے دیکھنے والا تو یہی سمجھے گا کہ عمدہ کھانا کھا رہا ہے اور اچھے کپڑے پہنے ہوئے ہے لیکن آدمی سے پوچھنا چاہیئے