خطبات محمود (جلد 4) — Page 246
خطبات محمود جلد ۴ ۲۴۶ (۵۲) تمسخر اور ٹھٹھے کی ابتداء ہمیشہ تکبر سے ہوتی ہے (فرموده ۱۸۔دسمبر ۱۹۱۴ء) سال ۱۹۱۴ء تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت کی تلاوت کی :۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَاء مِنْ نِّسَاءٍ عَسَى أَنْ يَكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ اس کے بعد فرمایا:۔اس زمانہ میں سنجیدگی اور صداقت بہت کم ہو گئی ہے اور یہی وہ دو چیزیں ہیں جن پر انسانی ترقی کی پہلی اینٹ رکھی جاتی ہے۔گو یا روحانی ترقی کیلئے یہ بنیادی چیزیں ہیں مگر افسوس کہ یہی دونوں چیزیں اس وقت دنیا میں مفقود ہورہی ہیں اور جب بنیاد ہی نہ ہوگی تو عمارت کہاں تیار ہو سکے گی۔ہنسی تمسخر اور ٹھٹھے کی ابتداء ہمیشہ تکبر سے پیدا ہوتی ہے اور ان کا انجام بھی ہمیشہ منافقت اور تکبر ہی ہوتا ہے۔قرآن شریف میں جہاں خدا تعالیٰ نے لوگوں کے فتنہ اور فساد کے مٹانے کیلئے احکام بیان فرمائے ہیں وہاں یہ بھی فرمایا ہے کہ کسی کو ہنسی اور تمسخر نہ کرو کیونکہ اس سے انسان صرف اوروں کو ہی نقصان نہیں پہنچا تا بلکہ اس میں بھی تکبر اور نفاق پیدا ہو جاتا ہے اور یہ دونوں باتیں تمسخر اور ہنسی کا لازمی نتیجہ ہیں جو کہ انسان کی ہلاکت کا باعث ہوتی ہیں۔دوسرے سے انسان اسی وقت تمسخر کرتا ہے جبکہ اسے حقیر اور اپنے سے کم درجہ پر سمجھتا ہے۔ورنہ کوئی انسان یہ جرات کبھی نہیں کر سکتا کہ اپنے سے معزز انسان کو بھی مخول