خطبات محمود (جلد 4) — Page 245
خطبات محمود جلد ۴ ۲۴۵ سال ۱۹۱۴ء اس کیلئے ہزاروں سال درکار ہیں۔لیکن بتاؤ مسلمانوں کو اسلام کیلئے کیا کچھ چھوڑنا پڑتا ہے۔قرآن پر عمل کرنے سے دوست آشنا، بیوی بچے، مال و دولت کچھ بھی نہیں چھوڑنا پڑتا تو پھر اگر کوئی ایسا شخص جو اسلام کے احکام پر نہ چلے تو اس پر کتنا افسوس ہے۔اسلام کے احکام پر عمل کرنے سے کوئی مصیبت اور تکلیف نہیں ہوتی صرف ہمت اور ارادہ اور اخلاص کی ضرورت ہے اور ہم احمدیوں کیلئے تو خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے بہت ہی آسان کر دیا ہے اس لئے ذرا بھی کوتاہی نہیں ہونی چاہیئے۔تم خوب یادرکھو کہ قرآن شریف سے بہتر دنیا میں کوئی چیز نہیں ہے اور اسی میں تمام دنیا کے خزانے ہیں یہی وہ چیز تھی جس کو صحابہ لے کر کھڑے ہوئے تو تمام دنیا نے ان کے آگے سر جھکا دیا۔اگر تم بھی اسی کو لے کر نکلو تو کسی کی طاقت نہیں کہ تمہارے آگے ٹھہر سکے۔کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے پاس دولت اور مال نہیں اس لئے مفلس اور کنگال ہیں لیکن انہوں نے سونا چاندی کو دولت سمجھا ہوا ہے۔اصل دولت صداقت اور راستی ہے یہ جس کے پاس اور جس گھر میں ہے اس کو کسی اور چیز کی پرواہ نہیں اور جو یہ دولت رکھتا ہو اس کے سامنے دنیا کے سب خزانے بیچ ہیں اور دنیا کے لوگ ایسے لوگوں کے پاس دعا کرانے کیلئے دوڑے آتے ہیں۔تو تمہارے گھروں میں وہ مال ہے جو تمام دنیا کے وہم و گمان میں بھی نہیں۔آج یورپ کہتا ہے کہ مسلمان غریب اور مال و دولت سے تہی دست اور ہر علم میں کمزور ہیں لیکن ہم کہتے ہیں کہ یورپ کا تمام مال و دولت اور ایجاد میں قرآن شریف کے ایک ایک شوشہ کا بھی مقابلہ نہیں کرے سکتیں۔اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ مسلمان مال نہ ہونے کی وجہ سے ذلیل ہیں تو یہ غلط ہے۔ہمارے پاس ایسا مال ہے جو کہ خرچ کرنے سے بڑھتا ہے اور ان کا مال خرچ کرنے سے گھٹتا ہے گویا ہمارے پاس ایک چشمہ ہے جتنا اس سے پانی نکالا جائے اتناہی بڑھتا جاتا ہے تو ایک پکے مسلمان کیلئے یاس اور حسرت کی کوئی وجہ نہیں ہے۔خدا نے اسے وہ کچھ دیا ہے جو اور کسی کے پاس نہیں ہے مگر قدر کرنے والے ہی اس سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔خدا تعالیٰ آپ سب لوگوں کو توفیق دے تا کہ اس خزانہ سے آپ فائدہ اٹھا سکیں جو خدا تعالیٰ نے اپنے فضل اور کرم سے تمہیں دیا ہے اور ہمارے بزرگوں نے بڑی محنت اور کوشش سے جو کچھ ہمارے لئے مہیا کیا ہے اس سے خود بھی فائدہ اٹھائیں اور اوروں تک بھی اسے پہنچائیں۔(الفضل ۱۷۔دسمبر ۱۹۱۴ء)