خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 244

خطبات محمود جلد ۴ ۲۴۴ سال ۱۹۱۴ء ہوتے ہوئے کسی اور چیز کی ضرورت نہیں ہوتی۔مگر باوجود اس کے کہ پکا پکا یا کھانا اس کے سامنے رکھا ہوتا ہے مگر پھر بھی سو میں سے ایک ہی ہوتا ہے جو اس کی قدر کرتا ہے۔قرآن شریف مسلمانوں کے گھروں میں ہوتا ہے لیکن وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے ، آنحضرت سیلی یہ تم کا کلام ان کے پاس موجود ہوتا ہے لیکن انہیں اتنی ہمت نہیں ہوتی کہ اس سے مستفیض ہوں اور یہ اس احمق کی طرح ہیں جس کے گھر میں کھانا موجود ہو اور وہ بھوکوں مر رہا ہو۔اس سے زیادہ احمق کون ہے جس کے صحن میں کنواں موجود ہو اور وہ پیاسا جان تو ڑ رہا ہو۔وہ شخص بھی دکھ میں ہے جو جنگل میں پیاسا مر رہا ہو مگر قابل ہزار ملامت وہ ہے جس کے گھر میں کنواں ہو اور وہ پانی نہ پیتا ہو۔مسلمانوں کو خدا تعالیٰ نے پانچ وقت دن میں نماز پڑھنی سکھلائی اور اس میں بڑی اعلی درجہ کی دعائیں سکھائیں۔خدا کے حضور گرنے کا طریقہ بتایا، خدا کی مدد پر بھروسہ رکھنے کا طریق بتایا، بدیوں سے بچنے کے احکام بتائے اور سیدھا راستہ اختیار کرنے کے لئے صاف اور کھلی کھلی تعلیم دی مگر با وجود ان باتوں کے گمراہی میں پڑے رہنا بد بختی کی دلیل نہیں تو اور کیا ہے۔ان کے گھر میں کنواں ہے مگر یہ اس سے اپنی پیاس کو نہیں بجھاتے ، ان کے گھر میں روٹی ہے مگر یہ اسے کھا کر بھوک دور نہیں کرتے۔ان کو ماں باپ سے دولت ورثہ میں ملی تھی لیکن انہوں نے اس کی کچھ قدر نہ کی۔یہی قرآن تھا جس نے اہل عرب کے بدترین لوگوں کو ایسا بنا دیا کہ آج دنیا ان کے نمونہ کو اپنا را ہنما بنارہی ہے۔اور انہوں نے بڑی محنتوں اور کوششوں سے سب کچھ حاصل کیا تھا لیکن آج مسلمانوں کو کوئی محنت اور مشقت نہیں کرنی پڑتی تاہم ہر ایک زندگی کے شعبہ میں کمزور اور ذلیل ہیں۔احمدی جماعت میں سے اگر کوئی شخص ایسا ہو تو اس کیلئے بہت ہی زیادہ افسوس کا مقام ہے کیونکہ اس کے لئے صرف اسلام کی تعلیم ہی نہیں ہے بلکہ اس نے تو اس تعلیم سے جو ثمرات حاصل ہوتے ہیں وہ بھی دیکھ لئے ہیں۔ہم احمدیوں کو کسی نئی محنت اور کوشش کی ضرورت نہیں ہے۔ایک عیسائی جو عیسائی ماں باپ کے گھر پیدا ہو اس کیلئے ، ایک ہندو جو ہندو ماں باپ کے گھر پیدا ہو اس کیلئے اور اسی طرح دوسرے لوگوں کیلئے حق اور صداقت کا اختیار کرنا بڑا مشکل ہے اور انہیں اپنے عزیزوں، رشتہ داروں، بیوی بچوں، دوستوں، دولت، مال و جائداد کو چھوڑنا پڑتا ہے پھر مختلف رسومات، عقائد اور خیالات کو ترک کرنا پڑتا ہے اور پھر وہ خود غور و خوض اور تحقیق کر کے حق مذہب کو اختیار کرنا چاہے تو