خطبات محمود (جلد 4) — Page 243
خطبات محمود جلد ۴ ۲۴۳ سال ۱۹۱۴ء کنگال ہو گئے۔تمام دنیا کے انسانوں کا مذہب میں بھی یہی حال ہے۔ایک گروہ تو ایسا ہوتا ہے کہ اس کو صداقت ورثہ میں ملی ہوتی ہے اور اس کو پیدا ہوتے ہی ماں باپ سے صداقت ملتی ہے اور شروع سے اس نے کے کان خدا تعالیٰ کی تحمید اور تقدیس کو سنتے ہیں، اس کی آنکھیں اپنے والدین کو خدا تعالیٰ کی عبادت ہے کرتے دیکھتی ہیں، اس کا دل اپنے والدین کی دینداری سے متائثر ہوتا ہے جیسے ایک سچے مسلمان کی۔اولاد۔اور ایک گروہ وہ ہوتا ہے جس کو پیدائش سے ورثہ میں صداقت تو نہیں ملی ہوتی جیسے دیگر مذاہب والے لوگ مگر ان میں سے کچھ لوگ مسلمان ہو کر خود صداقت حاصل کر لیتے ہیں۔اسی طرح گمراہ لوگوں کی کا حال ہے یا تو وہ لوگ گمراہ ہوتے ہیں جن کو گرا ہی ورثہ میں ملی ہوئی ہوتی ہے یعنی وہ ایسے مذاہب اور قوموں میں پیدا ہوتے ہیں جن میں کوئی نور کوئی ہدایت نہیں ہوتی جیسے ان کے ماں باپ گمراہی میں پڑے ہوتے ہیں اسی طرح وہ ہوتے ہیں۔یا وہ لوگ گمراہ ہوتے ہیں کہ ان کو صداقت تو ملی ہوتی ہے لیکن باوجود صداقت کے ملنے کے اس سے فائدہ نہ اٹھانے کی وجہ سے گمراہ ہو جاتے ہیں جیسے آج کل کے مسلمان۔بے شک وہ انسان قابل ملامت ہے جس کے ماں باپ گمراہ تھے اور وہ بھی گمراہی میں رہا۔کیوں اس نے نے ہمت اور کوشش سے کام لے کر ہدایت حاصل نہیں کی۔جب خدا نے اس کو ایسا ہی دماغ دیا تھا جیسا کہ وہ اپنے پیاروں کو دیتا ہے، ایسی ہی آنکھیں دی تھیں جیسی کہ وہ اپنے محبوبوں کو دیتا ہے، ایسے ہی کان دیئے تھے جیسے کہ وہ اپنے محبوں کو دیتا ہے اور ایسا ہی دل دیا تھا جیسا کہ وہ اپنے عزیزوں کو دیتا ہے تو کیوں اس نے ان سے فائدہ اٹھا کر ہدایت اختیار نہیں کی لیکن بہت زیادہ ملامت اور نفرین کے قابل وہ انسان ہے جس کو صداقت ملی اور اس نے اس کو چھوڑ کر گمراہی اختیار کر لی۔مسلمانوں کی حالت اسی طرح ہے جس طرح کسی کو ورثہ میں دولت ملی ہو اور وہ اسے چھوڑ چھاڑ کر کنگال اور نادار ہو گیا ہو۔ایسے شخص کو جس نے کہ ماں باپ کی دولت کو ضائع کر دیا ہومسلمان بھی یہی کہتے ہیں کہ بڑا نالائق اور بیوقوف ہے اس نے ماں باپ کی دولت کو ضائع کر دیا ہے اور مفلس اور نادار ہو گیا ہے لیکن وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہمیں والدین سے ورثہ میں کیا ملا تھا اور ہم نے اس کی کیا قدر کی ہے۔ایک مسلمان کے پیدا ہوتے ہی سب سے پہلے توحید کی تعلیم اس کے کان میں ڈالی جاتی ہے۔اور وہ جوں جوں بڑا ہوتا ہے اپنے والدین کو نماز پڑھتے ، روزہ رکھتے پھلی باتیں کہتے دیکھتا اور بڑا ہو کر قرآن شریف جیسی نعمت کو پاتا اور آنحضرت ملا سلیم کیپاک تعلیم کو دیکھتا ہے اور ان باتوں کے