خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 234

خطبات محمود جلد ۴ ۲۳۴ سال ۱۹۱۴ء نے کون سے ایسے کام کئے تھے کہ خدا تعالیٰ نے تمہارے ایمان کی حفاظت کی ، بی محض اس کا فضل تھا۔پھر ایسے بھی انسان ہیں جنہوں نے مان کر انکار تو نہیں کیا لیکن کسی اور وجہ سے ان کو ٹھوکر لگ گئی ہے لیکن کیا وجہ ہے کہ تم محفوظ رہے ہو، یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہی ہے۔پھر ہزاروں لوگ قادیان میں آئے لیکن انہیں خدمت دین کا اس قدر موقع نہ ملا جس قدر تم کو ملا ہے لیکن تم نے کون سا کام کیا تھا کہ خدا تعالیٰ نے تم کو یہ موقع دیا ہے، یہ اس کا احسان اور فضل ہی ہے۔تم میں سے کون ہے جو یہ دعوی کرے کہ میری وجہ سے یہ جماعت بڑھی اور میری وجہ سے یہ سلسلہ قائم ہوا۔جو خدا اتنے دلوں کو یہاں پھیر کر لایا ہے اور آج تک مسیح موعود کے کاموں کو انجام دیتا رہا ہے، وہ اب بھی باقی کاموں کے لئے تمہارا ہرگز ہر گز محتاج نہیں ہے۔تم اگر کوئی خدمت دین کرتے ہو تو شکر کرو کہ خدا نے تمہیں اپنے فضل سے یہ موقع دیا ہے۔انبیاء کی صحبت میں بیٹھنے والوں کا بھی کیا عجیب حال ہوتا ہے۔نبی کریم صلی ایلیا میمن نے ایک دفعہ ایک صحابی ها کو بلا کر فرمایا۔کیا تمہیں کچھ بتا ئیں۔اس نے عرض کیا حضور فرمائیے۔آپ نے فرمایا کہ خدا نے مجھے کہا ہے کہ میں تمہیں سورة البينة (لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا ) پڑھاؤں۔اس نے زور دے کر پوچھا۔کیا خدا نے آپ کو فرمایا ہے کہ آپ مجھے یہ سورۃ پڑھا ئیں اور اس فقرہ کو بار بار دہراتا اور زور زور سے روتا جاتا تھا اور کہتا تھا کہ کیا میں بھی اس لائق ہوں کہ خدا تعالیٰ مجھے یاد کرے تو واقعہ میں انسان کا یہی کام ہے کہ اپنے آپ کو کچھ بھی نہ سمجھے۔لاکھوں انسان مسیح موعود کے زمانہ کو ترستے گئے ہیں۔پھر وہ کیسے خوش قسمت ہیں جنہیں خدا تعالیٰ نے اپنا مامور بھیج کر اپنی طرف بلایا اور ان سے کچھ کام لیا۔اگر انسان اپنے آپ کو اور خدا کے احسانوں کو دیکھے اور غور کرے تو اسے اپنی حقیقت معلوم ہو جائے۔اس سے زیادہ اللہ کا اور کیا فضل ہوگا کہ ایک نطفہ سے پیدا شدہ کو خدا فرمائے کہ ہم تم سے یہ کام لیتے ہیں۔سو اللہ تعالیٰ کے احسانوں کی قدر کرو اور دعا کرو کہ خدا تعالیٰ تم سے یہ کام بھی لے لے۔حضرت صاحب نے اس کیلئے بڑی بڑی دعائیں کیں اور ی بڑی بڑی دعاؤں کے بعد اس کی بنیادیں رکھی تھیں۔شاید ہماری ہی غلطیوں کی وجہ سے اس میں روک پڑ گئی ہو۔آؤ اب ہم دعائیں کریں اور بہت دعائیں کریں تا کہ خدا تعالیٰ اس کی تکمیل کی ہمیں ی توفیق دے۔اور شکریہ ادا کرو کہ تم کو بہت سے کام کرنے کی توفیق ملی ہے۔خدا تعالیٰ ہم سے